انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 91

انوار العلوم جلد ۱۹ ۹۱ قومی ترقی کے دوا ہم اصول کھاتا رہا۔دوسرے دن پھر یہی حال ہوا۔دو دن تو اُس نے اس بات کو برداشت کر لیا مگر آخر اُس سے نہ رہا گیا اُس نے بہرے سے پوچھا کہ تم میرے سامنے گوشت کیوں نہیں رکھتے اس نے اسے بتایا کہ فلاں شخص نے مجھے کہا تھا کہ یہ صاحب گوشت کے سخت خلاف ہیں۔وہ حافظ صاحب مرحوم کے پاس آیا اور کہنے لگا آپ نے بہرے کو کوئی بات کہی تھی ؟ انہوں نے کہا ہاں۔اس نے پوچھا کیا بات کہی تھی ؟ انہوں نے کہا میں نے اسے بتایا تھا کہ یہ صاحب گوشت خوری کے سخت خلاف ہیں ان کے سامنے کبھی گوشت نہ رکھنا ورنہ یہ تجھے ماریں گے۔یہ سن کر وہ ہندو کہنے لگا گوشت کھانا الگ بات ہے اور بحث الگ بات۔میرے کھانے میں آپ کسی قسم کا دخل نہیں دے سکتے۔حافظ صاحب مرحوم نے مسکرا کر کہا اچھا میں اس بات کو نہیں سمجھا تھا کہ آپ کی بحث اور آپ کے عمل میں تضاد ہے۔اب دیکھو اس ہند و کا فکر تو صحیح تھا کہ گوشت کھانا چاہئے مگر یہ فکر چونکہ اس کے اندر جذب نہ ہوا تھا اس لئے اُس کے جذبات اور طرف جا رہے تھے اور ارادہ اور طرف۔پس جب تک سچائی انسان کے اندر جذب نہ ہو جائے تب تک وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتا۔مسمریزم اور ہیپناٹزم والے جب یہ علم کسی کو سکھاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تمہارے دل میں صرف خیال کا ہی پیدا ہونا کافی نہیں کہ یہ طاقت میرے اندر آ جائے گی بلکہ تمہیں اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ یہ قوت تمہارے اندر آ گئی ہے اور تمہیں یقین ہونا چاہئے کہ تم اب اس کو استعمال کر سکتے ہو۔وہ لوگ خدا کے تو قائل نہیں ہوتے مگر وہ کہتے ہیں کہ ایک محیط کل ہستی ہے وہ جب یہ علم سیکھتے ہیں تو سانس کھینچتے ہوئے کہتے ہیں اے محیط گل طاقت؟ ہم تجھے اپنے اندر جذب کر رہے ہیں اور وہ سیکھنے والوں سے بھی کہتے ہیں کہ صرف اتنا ہی ضروری نہیں کہ تم یہ خیال کر لو کہ محیط گل کی طاقت تمہارے اندر جذب ہو رہی ہے بلکہ ضروری چیز یہ ہے کہ تم محسوس کرو کہ یہ طاقت تمہارے اندر جذب ہو رہی ہے اور جب تم محسوس کر لو گے تو وہ طاقت تمہارے اندر آ جائے گی۔پھر وہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی پر عمل کرو اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر توجہ ڈالو یا اس کے کانوں میں آواز دو تو اسے یہ نہ کہو کہ محیط گل کی طاقت تمہارے اندر آئے بلکہ یہ کہو کہ محیط گل کی طاقت تمہارے اندر آ گئی ہے اور یہ صحیح بات ہے میں نے خود بھی اس کے متعلق