انوارالعلوم (جلد 19) — Page 77
انوار العلوم جلد ۱۹ 22 قومی ترقی کے دوا ہم اصول لئے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ایک بادشاہ اور اس کا نوکر کہیں جارہے تھے کہ دشمن نے ان کو پکڑ لیا اور بادشاہ کو پھانسی کی سزا مل گئی مگر نوکر نے بادشاہ کو پھانسی سے بچانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا اور کہا بادشاہ یہ نہیں بلکہ میں ہوں اس لئے مجھے پھانسی پر چڑھایا جائے۔اسی طرح ایک مشہور واقعہ ہے کہ خانخاناں جو بہرام کے بیٹے تھے اور فوج میں جرنیل تھے شاہجہان کے وقت جب بغاوت ہوئی اور باشاہ کے داماد نے یہ شرارت اُٹھائی تو اس میں خانخاناں کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔اُن کا نوکر جو نو مسلم تھا ان کا بہت منہ چڑھا تھا انہوں نے اس کو داروغہ بنا دیا تھا اور لوگ اس نوکر کو جانجاناں کے نام سے پکارتے تھے۔خانخاناں بہت سخی واقع ہوئے تھے مگر جانجاناں ان سے بھی زیادہ بھی تھا اور ان کا بہت سا مال تقسیم کر دیا کرتا تھا اور لوگ اس پر ہمیشہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ خانخاناں نے اس کو کیوں اتنا منہ چڑھایا ہوا ہے۔خانخاناں کی سخاوت کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ وہ کھانا کھانے بیٹھے اور ان کا ایک نوکر چوکری هے جھل رہا تھا کہ وہ رو پڑا انہوں نے جب اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اس سے پوچھا تمہارے رونے کی کیا وجہ ہے کیا تمہیں میرے پاس رہنے میں کوئی تکلیف ہے؟ نوکر نے کہا تکلیف تو کوئی نہیں صرف یہ بات ہے کہ میں ایک بہت بڑے رئیس کا بیٹا ہوں اور میرا باپ بھی آپ ہی کی طرح کا رئیس تھا اور بالکل اسی طرح اُس کے سامنے کھانے چنے جاتے تھے اور مہمان پاس بیٹھ کر کھاتے تھے جب میں نے آپ کے دستر خوان پر یہ کھانے دیکھے اور اتنے لوگوں کو کھاتے دیکھا تو مجھے اپنا باپ یاد آ گیا اور میں بے اختیار رو پڑا۔عبدالرحیم خانخاناں نے کہا اچھا ایک بات تو بتاؤ کبوتر کے گوشت کا سب سے زیادہ ، اچھا اور لذیذ کونسا حصہ ہوتا ہے؟ جو لوگ کبوتر کا گوشت استعمال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کا سب سے لذیذ حصہ اس کی کھال ہوتی ہے۔نوکر نے کہا کبوتر کی کھال سب سے زیادہ لذیذ ہوتی ہے، یہ سن کر خانخاناں سمجھ گئے کہ یہ واقعی کسی رئیس کا لڑکا ہے۔انہوں نے فوراً حکم دیا کہ اس نوکر کو حمام میں لے جا کر اسے غسل دیا جائے اور اسے اعلیٰ قسم کا لباس پہنایا جائے اور دستر خوان پر بٹھا کر کھانا کھلایا جائے۔چنانچہ اس پر عمل کیا گیا جب دوسرے نوکروں نے یہ واقعہ سنا تو ان میں سے بھی ایک نوکر کا جی