انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page ix

انوار العلوم جلد ۱۸ تعارف کتب مختلف سماجی و معاشرتی کمزوریوں پر روشنی ڈالی نیز انگریز قوم کی بعض کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی بعض خوبیوں کو بھی بیان فرمایا جن کی روشنی میں احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔اب ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ ایسے اخلاق پیدا کرے جو نہایت اعلیٰ درجہ کے ہوں اور جن سے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بن جائے“۔نیز فرمایا:۔”ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرے اور نہ صرف وہ خوبیاں حاصل کرے جو انگریزوں میں پائی جاتی ہیں بلکہ ان سے بھی بہتر خوبیاں اپنے اندر پیدا کرے تا کہ ہماری جماعت کا معیار بلند ہو اور لوگوں پر ہمارا رُعب قائم ہو۔(۷) نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوتی ہیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ پُر معارف خطاب مؤرخہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۵ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر ارشاد فرمایا جس میں حضور نے اس ابدی اصول پر روشنی ڈالی کہ کفر ہمیشہ ایک ہی راستے پر چل رہا ہے اور اس سے پیار کرنے والے ہر نبی کے زمانہ میں وہی طریق اختیار کرتے ہیں جو پہلے انبیاء کے زمانہ میں اختیار کیا گیا۔اسی طرح ہدایت کا بھی ایک بنا بنایا راستہ ہے جو ابتدا سے آج تک بغیر تغیر و تبدل کے چلا آ رہا ہے اور ہر آنے والا اسی راستہ پر چلتا ہے لیکن لوگ اس بنے ہوئے راستہ کی طرف توجہ نہیں کرتے اور خود تراشیدہ قوانین کی پیروی کرتے ہیں۔چنانچہ اس اصول سے آپ نے اس حقیقت کو ثابت کیا کہ تمام انبیاء کے حالات و واقعات ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں لہذا اسی معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو بخوبی پرکھا جا سکتا ہے۔