انوارالعلوم (جلد 18) — Page 41
انوارالعلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام اسلام اس قسم کے کاموں کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔وہ فرماتا ہے مسلمان ہمیشہ لغو کاموں سے بچتے اور احتراز کرتے ہیں وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتے اور کوئی ایسا کام اُن کو نہیں کرنا چاہئے جن کا کوئی عقلی فائدہ نہ ہو اور جس سے زندگی بے کا ر ہو جاتی ہو۔وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی کمائی کھاتا ہے اور خود کوئی کام نہیں کرتا آخر اُ سے سوچنا چاہئے کہ اُس کے اس فعل کا اُسے کیا فائدہ ہوسکتا ہے یا اس کی قوم کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔یہ چیز تو ایسی ہے جس کا اس کی ذات کو بھی فائدہ نہیں ہوسکتا۔اُس کی قوم کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا اور دنیا کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا یہ زندگی کو محض بے کاری اور عیاشی میں ضائع کرتا ہے اور اسلام اس قسم کی بے کار زندگی کی اجازت نہیں دیتا۔اگر ایک شخص کو اپنے باپ کے مرنے کے بعد دس کروڑ روپیہ بھی جائداد میں ملتا ہے تو قرآن کریم کا حکم یہی ہے کہ وہ اتنی بڑی جائداد کا مالک ہونے کے باوجود اپنے وقت کو ضائع نہ کرے بلکہ اُسے قوم اور مذہب کے فائدہ کے لئے خرچ کرے۔اگر اُسے اس قسم کی خدمات کی ضرورت نہیں جن کے نتیجہ میں اُسے روٹی میسر آئے تو وہ ایسی خدمات سرانجام دے سکتا ہے جو آنریری رنگ رکھتی ہوں۔اِس طرح وہ بغیر معاوضہ لئے اپنے ملک یا اپنی قوم یا اپنے مذہب کی خدمت کر کے اپنے وقت کو بھی ضائع ہونے سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور اپنے اوقات کا بھی صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو نافع الناس وجود بنا سکتا ہے۔اسی طرح اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم وہ کھیلیں مت کھیلو جو وقت کو ضائع کرنے والی اور زندگی کو بے کا رکھونے والی ہوں۔اسی حکم کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ مرد زیور نہ پہنیں ، وہ ریشم استعمال نہ کریں اسی طرح سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔19 عورتوں کے لئے زیور حرام نہیں مگر اُن کے لئے بھی عام حالات میں رسول کریم ﷺ نے زیورات کو نا پسند فرمایا ہے۔گو اس وجہ سے کہ وہ مقامِ زینت ہیں زیورات کا استعمال اُن کے لئے پوری طرح منع نہیں کیا۔مگر اسلام اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ زیورات پر اس قدر روپیہ خرچ کیا جائے کہ ملک کی اقتصادی حالت کو نقصان پہنچ جائے یا اُنہیں اس قدر زیورات بنوا کر دیئے جائیں کہ اُن میں تفاخر کی روح پیدا ہو جائے یا اس کے نتیجہ میں لالچ اور حرص کا مادہ اُن میں بڑھ جائے۔اُن کے لئے زیورات کی اجازت ہے مگر