انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 580

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۸۰ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔کی یہی دلیل ہو تو بمبئی ، یوپی اور بہار وغیرہ کی گورنمنٹوں کو کس طرح لائق اور اہل کہا جا سکتا ہے؟ اور اگر کسی جگہ قتل و غارت کا ہونا ہی وہاں کی گورنمنٹ کو نا اہل قرار دینے کا موجب ہوسکتا ہے تو کیوں نہ سب سے پہلے بمبئی اور بہار کی گورنمنٹوں کو نا اہل کہا جائے۔ایک ہی دلیل کو ایک جگہ استعمال کرنا اور دوسری جگہ نہ کرنا سخت نا انصافی اور بد دیانتی ہے۔اگر یہی قاعدہ کلیہ ہو تو سب جگہ یکساں چسپاں کیا جانا چاہئے نہ کہ جب اپنے گھر کی باری آئے تو اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔کسی علاقہ میں قتل و غارت اور فسادات کا ہونا ضروری نہیں کہ حاکم کی غلطی ہی سے ہو۔میں پچھلے سال اکتوبر نومبر میں اس نیت سے دہلی گیا تھا کہ کوشش کر کے کانگرس اور مسلم لیگ کی صلح کرا دوں۔میں ہر لیڈر کے دروازہ پر خود پہنچا اور اس میں میں نے اپنی ذرا بھی ہتک محسوس نہ کی اور کسی کے پاس جانے کو عار نہ سمجھا صرف اس لئے کہ کانگرس اور مسلم لیگ میں مفاہمت کی کوئی صورت پیدا ہو جائے ، ان کے درمیان انشقاق اور افتراق رہنے کی وجہ سے ملک کے اندر کسی قسم کا فتنہ و فساد ہونے نہ پائے۔میں مسٹر گاندھی کے پاس گیا اور کہا کہ اس جھگڑے کو ختم کراؤ لیکن انہوں نے ہنس کر ٹال دیا اور کہا میں تو صرف ایک گاندھی ہوں ، آپ لیڈر ہیں آپ کچھ کریں مگر میں کہتا ہوں کہ کیا واقعہ میں گاندھی ایک آدمی ہے اور اس کا اپنی قوم اور ملک کے اندر کچھ رُعب نہیں اگر وہ صرف ایک گاندھی ہے تو سیاسیات کے معاملات میں دخل ہی کیوں دیتا ہے۔وہ صرف اس لئے دخل دیتا ہے کہ ملک کا اکثر حصہ اس کی بات کو مانتا ہے مگر میری بات کو ہنس کر ٹلا دیا گیا اور کہہ دیا گیا میں تو صرف گاندھی ہوں اور ایک آدمی ہوں حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ تمیں کروڑ کے لیڈر ہیں اور میں ہندوستان کے صرف پانچ لاکھ کا لیڈ رہوں کیا میرے کوئی بات کہنے اور ۳۰ کروڑ کے لیڈر کے کوئی بات کہنے میں کوئی فرق نہیں۔بے شک میں ۵ لاکھ کا لیڈر ہوں اور میری جماعت میں مخلصین بھی ہیں جو میری ہر بات پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور مجھے واجب الاطاعت تسلیم کرتے ہیں لیکن بہر حال وہ پانچ لاکھ ہیں اور پانچ لاکھ کے لیڈرا اور تمیں کروڑ کے لیڈر کی آواز ایک سی نہیں ہو سکتی۔تمہیں کروڑ کے لیڈر کی آواز ضرور اثر رکھتی ہے اور ملک کے ایک معتدبہ حصہ پر رکھتی ہے لیکن افسوس کہ وہی گاندھی جو ہمیشہ سیاسیات میں حصہ لیتے رہتے ہیں میری بات سننے پر تیار نہ ہوئے۔اسی طرح میں پنڈت نہرو کے دروازہ