انوارالعلوم (جلد 18) — Page 410
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۱۰ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔سید احمد صاحب بریلوی جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے مجدد تھے جب وہ حج کے لئے گئے تو اُن کے قافلہ میں سو کے قریب ایسی عورتیں بھی تھیں جو کہ کبھی گھر سے باہر بے پردہ نہ نکلی تھیں۔جب وہ باہر جاتیں تو اُن کے کمرے میں ڈولی لے جائی جاتی اور وہ وہیں سے سوار ہو کر باہر نکلتیں اور اگر کبھی انہیں ایک گلی سے دوسری گلی میں جانا ہوتا تو پہلے بہت سے پردے کئے جاتے تب وہ اس جگہ سے گزرتیں یہ سو عورتیں جب حج کے لئے مکہ پہنچیں اور خانہ کعبہ میں طواف کا وقت آیا تو سید احمد صاحب نے کہا اے بہنو ! جس خدا کا یہ حکم تھا کہ تم پردہ کیا کرواسی خدا کا اب یہ حکم ہے کہ تم یہاں طواف کے وقت پردہ نہ کرو۔تاریخ بتاتی ہے کہ تمام کی تمام عورتوں نے اُسی وقت نقاب چہرہ پر سے اُلٹ دیئے اور کوئی ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا۔یہ ایمان تیرھویں صدی کی عورتوں میں تھا جن کے پاس نور کا ایسا سر چشمہ نہ تھا جیسا تمہارے پاس ہے اور انہوں نے اس قدرنشانات اور معجزات نہیں دیکھے تھے جتنے تم نے دیکھے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ تم سستی کو ترک نہیں کرتیں۔اگر تم تبلیغ نہیں کروگی تو اور کون کرے گا۔مرد تو عورتوں کو اُن کے پردہ کی وجہ سے تبلیغ نہیں کر سکتے اگر تم بھی اُن کو تبلیغ نہ کرو تو عورتوں میں احمدیت کس طرح پھیلے گی۔جو عورتیں بے پردہ ہو چکی ہیں اُن کو دین سے کوئی دلچسپی نہیں رہی وہ تو بے دین ہو چکی ہیں اور نہ ہی دینی باتیں سننے کے لئے تیار ہیں دین کی باتیں پردہ دار عورتیں ہی زیادہ کر سکیں گی اور اُن تک تم ہی پہنچ سکتی ہو۔پس تم پر بھی تبلیغ اسی طرح فرض ہے جس طرح مردوں پر فرض ہے اگر تم دینی کاموں میں مردوں کے ساتھ ساتھ نہیں چلو گی تو تم جماعت کا مفید جز و نہیں بلکہ پھوڑے کی طرح ہوگی جو انسان کو اس کے فرائض سرانجام دینے سے روک دنیا ہے۔پھوڑا نکلنے کی وجہ سے بے شک کچھ گوشت بڑھ جاتا ہے لیکن وہ جسم کی طاقت بڑھانے کا موجب نہیں ہوتا بلکہ بیماری کی علامت ہوتا ہے اور کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ پھوڑا اُس کے جسم کا جزو بنار ہے اسی طرح ہم بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری عورتیں گندے عضو کی طرح ہمارے باقی جسم کو خراب کریں اگر وہ ایسی رہیں گی تو یقیناً اس قابل ہوں گی کہ انہیں جسم سے علیحدہ کر دیا جائے۔پس تم اپنی مستیوں اور غفلت کو ترک کرو اور اپنے آپ کو احمدیت کے لئے ایک مفید جزو