انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 403

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۰۳ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین ہوں تو یہ دو چار سو مرد اور دو چار سو عورتیں ہی صرف احمدیت میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی، بہنیں اور بیٹے اور بچے بھی احمدیت میں داخل ہوں گے اور اس طرح تبلیغ کی رفتار دگنی ہو جائے گی۔لیکن میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے کبھی تبلیغ کے لئے اپنے دل میں در دمحسوس کیا ہے اور کیا کبھی تم نے یہ سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے کہ احمدیت میں داخل ہونے کی وجہ سے تم پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ احمدیت اس کا نام نہیں کہ چند روپے چندہ دے دیا یا منہ پر پانی کے چند چھینٹے ڈالے اور وضو کر کے دو چارسجدے اور رکوع کر دیئے بلکہ احمدیت اللہ تعالیٰ سے ایسے تعلق کا نام ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے بندے کا اتصال ہو جائے اور بندہ اللہ تعالیٰ کے پیاروں اور محبوبوں میں شامل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فرق نہیں کرتا اُس کا دروازہ ہر ایک بندے کے لئے کھلا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ بندہ اپنے اندر یہ تڑپ پیدا کرے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ملے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور میری زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جس طرح مردوں نے قربانیاں کی اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مورد بنے اسی طرح جن عورتوں نے اللہ تعالیٰ کے رستے میں قربانیاں کیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی مورد بنیں بلکہ وہ بعض باتوں میں مردوں سے بھی آگے نکل گئیں۔تفقہ میں جو درجہ حضرت عائشہ کو حاصل ہے وہ کسی مرد کو حاصل نہیں۔آج خاتم النبیین کا مسئلہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان مابه النزاع مسئلہ ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کے تابع نبی آسکتے ہیں لیکن غیر احمدی یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہے اور کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا اور اسی اختلاف کی وجہ سے سالہا سال سے ہمارے اور ان کے درمیان یہ جھگڑا چلا آتا ہے اس جھگڑے کو ایک عورت نے کیا اچھا حل کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عائشہ نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سُنا جو خاتم النبین کی جگہ لا نبی بعدہ کے الفاظ پر زور دیتے تھے۔حضرت عائشہ نے ان کی باتیں سنیں تو فرمایا۔( قُولُوا إِنَّهُ، خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ ا تم یہ تو بے شک