انوارالعلوم (جلد 18) — Page 353
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۵۳ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سپین اور سسلی میں تبلیغ اسلام اور جماعت احمدیہ فرمود ه ۳۰/ جون ۱۹۴۶ ء بعد نماز مغرب ) اسلامی تاریخی میں ایک نہایت ہی اہم واقعہ پین پر اسلامی لشکر کا حملہ ہے جس سے یورپ میں اسلام کا قیام ہوا۔یوں تو سارے انسان ہی خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک جیسے ہیں اور کسی جماعت یا کسی طبقہ کو کسی دوسری جماعت پر کوئی فوقیت نہیں لیکن یورپ اس اسلامی حملہ کے بعد سارے مشرق پر چھا گیا گویا یہ اسلامی حملہ ایسا تھا جس نے ذوالقرنین کے بند کو تو ڑ دیا۔یورپ سویا ہوا تھا اسلامی حملہ نے اسے بیدار کر دیا، یورپ غافل تھا اسلامی حملہ نے اسے ہوشیار کر دیا ، اس نے بیدار ہوتے ہی ایشیا اور افریقہ پر قبضہ کر لیا۔مسلمان اگر ہمت دکھاتے اور جو چیز ان کو دی گئی تھی اُسے مضبوطی سے پکڑے رکھتے اور اپنی طاقت کو کمزور ہونے سے بچاتے تو آج مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی کہ بجائے اس کے کہ ایشیا یورپ پر قابض تھا آج یورپ ایشیا پر قابض ہے اور بجائے اس کے کہ اسلام کے غلبہ اور شوکت کی وجہ سے یورپ میں عیسائیت کا نام و نشان نہ ملتا آج عیسائیت ایشیا میں اسلام کو کمزور کر رہی ہے۔مسلمان حملہ کرنے اور ان ممالک کو فتح کرنے کے بعد سب کچھ بھول گئے ، وہ اُن عزائم کو بھول گئے جن کا وہ عہد کر کے نکلے تھے اور وہ ان مقاصد کو بھول گئے جن کو حاصل کرنے کے لئے نکلے تھے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آپس میں لڑنے لگ گئے اور آپس میں لڑنے کی وجہ سے ان کی طاقت کمزور ہوگئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو ابھی پچاس ساٹھ سال بھی نہیں گزرے تھے کہ مسلمان افریقہ پر چھا گئے اور ابھی پہلی صدی باقی ہی تھی کہ انہوں نے سپین پر حملہ کیا اور ایسے جوش سے حملہ کیا کہ یوں معلوم ہوتا تھا ان کے اندر ایک آگ تھی جو ان کو ہر میدان میں فتح اور