انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 11

انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ انصاف سے کام لے اور حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھے۔یہ پاکیزہ خیالات اور یہ اعلیٰ درجہ کا نمونہ مسلمانوں میں اسی وجہ سے دکھائی دیتا ہے کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کے دماغوں میں شروع سے ہی یہ بات ڈال دی تھی کہ بادشاہت ایک امانت ہے اور یہ امانت صرف حقدار کو بطور انتخاب دینی چاہئے نہ کہ ورثہ کے طور پر لوگ اُس پر قابض ہوں۔یا اہلیت کے سوا اور کسی وجہ سے انہیں اس کام پر مقرر کیا جائے۔نیز یہ کہ جو شخص اس امانت پر مقرر ہو اُس کا فرض ہے کہ اِس امانت کے سب حقوق کو پوری طرح ادا کرے اور جو شخص اس کے تمام حقوق اور فرائض کے ساتھ اُسے ادا نہیں کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم کی طرح کھڑا ہوگا۔پس مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت یہ آیت رہتی تھی کہ تُؤَدُّوا الأمنت إلى أهلها یعنی جو لوگ حکومت کے قابل ہوں ، جو انتظامی امور کوسنبھالنے کی اہلیت اپنے اندر رکھتے ہوں اُن کو یہ امانت سپرد کیا کرو۔اور پھر جب یہ امانت بعض لوگوں کے سپر د ہو جاتی تھی تو شریعت کا یہ حکم ہر وقت اُن کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا کہ دیانت داری اور عدل کے ساتھ حکومت کرو۔اگر تم نے عدل کو نظر انداز کر دیا ، اگر تم نے دیانت داری کوملحوظ نہ رکھا، اگر تم نے اس امانت میں کسی خیانت سے کام لیا تو خدا تم سے حساب لے گا اور وہ تمہیں اس جرم کی سزا دیگا۔حضرت عمرؓ کا عدیم المثال خدمات کے یہی وہ چیز تھی جس کا اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر اس با وجود وفات کے وقت غیر معمولی کرب قد رغالب اور نمایاں تھا کہ اُسے دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت عمرؓ جو اسلام میں خلیفہ ثانی گزرے ہیں اُنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے اس قدر قربانیوں سے کام لیا ہے کہ وہ یورپین مصنف جو دن رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں، جو رسول کریم ﷺ کے متعلق اپنی کتابوں میں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ لکھتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ! آپ نے دیانت داری سے کام نہیں لیا وہ بھی ابو بکر اور عمر کے ذکر پر یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جس محنت اور قربانی سے ان لوگوں نے کام کیا ہے اس قسم کی محنت اور قربانی کی مثال دنیا