انوارالعلوم (جلد 18) — Page 197
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۹۷ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام سنانا شروع کر دیتا ہے۔پس انسانوں اور جانوروں میں بہت بڑا فرق ہے۔اس کے بعد اگر نباتات کو دیکھا جائے تو یہ فرق اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔نباتات کی جو غذائیں ہیں وہ بھی ابتداء سے آخر تک ایک ہی طرح چلتی چلی جاتی ہیں مگر ساتھ ہی وہ جگہ بھی ایک ہی رکھتی ہیں۔جانو را اپنی جگہ بدل لیتے ہیں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاتے ہیں مگر درخت پہلو بھی نہیں بدلتے جس جگہ پیدا ہوتے ہیں اُسی جگہ مرجاتے ہیں۔ہیں ، چھپیں، پچاس، سو یا ہزار سال جو بھی عمر ہو اس میں وہ کبھی اپنے مقام کو نہیں بدلتا۔جہاں انسانوں اور حیوانوں میں غذا کے بدلنے کا فرق ہے وہاں نباتات اور حیوانات میں جگہ کے بدلنے کا فرق ہے۔انسان اور حیوان دونوں جگہ بدل لیتے ہیں لیکن حیوان غذا ئیں نہیں بدلتے اور انسان اپنی غذا ئیں بدل لیتے ہیں۔نباتات غذا ئیں بھی نہیں بدلتے اور جگہ بھی نہیں بدلتے۔بعض درخت بیسیوں اور بعض سینکڑوں سال ایک ہی جگہ پیدا ہو کر رہ جاتے ہیں۔پس انسان کو دوسری اشیاء سے بھی یہی امتیاز حاصل ہے کہ اس کے حالات دوسری مخلوقات کے مقابل پر جلد جلد بدلتے ہیں اور ہر انسان کا دوسرے انسان سے بھی فرق ہوتا ہے تو یقیناً ہر زمانہ اور بعض دفعہ ہر جماعت الگ قسم کے قواعد کی محتاج ہوتی ہے مگر بعض نادان منتظم یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہر حالت میں ایک ہی علاج ہونا چاہئے۔وہ قانون پاس کر دیتے ہیں اور اس قانون کو پاس کرنے کے بعد یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اس قانون سے ہر شخص کا علاج ہو جائے گا اور یہ قانون ہر شخص کی حالت کے مطابق ہوگا حالانکہ یہ بات ناممکن ہے۔ہر انسان کی حالت دوسرے انسان سے الگ ہوتی ہے، ہر جماعت کی حالت دوسری جماعت سے الگ ہوتی ہے اور ہر ایک جماعت کے مختلف لوگوں کی حالت ایک دوسرے سے بالکل الگ ہوتی ہے۔جب تک ان تمام حالات کا اندازہ نہ کیا جائے اور ان کے مطابق علاج نہ سوچا جائے وہ بے اثر اور بے فائدہ ثابت ہو گا خواہ وہ علاج کتنا ہی اعلیٰ درجہ کا اور بے نظیر کیوں نہ ہو۔کام قواعد سے نہیں چلا کرتے بلکہ قواعد کے ساتھ ان کے نتائج کی طرف بھی نگاہ رکھنی چاہئے۔یہ ایک ناتجربہ کاری کی حالت ہوتی ہے کہ انسان قانون بنا دے لیکن اس کے نتائج پر غور نہ کرے۔میرے نزدیک جیوریز ( JURY) کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ بیٹھیں اور قواعد