انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 166

۱۶۶ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں انوارالعلوم جلد ۱۸ اور کسی قوم میں نہیں گزرا لیکن پھر بھی اُن کی ذہنیت میں تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔وہ کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیتے تھے کہ فاذهب انتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا انا هنا قاعِدُونَ ہے کہ اے موسیٰ ! تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور لڑتے پھر وہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔اگر یہ کام ہم نے ہی کرنا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا نام درمیان میں کیوں لاتے ہو۔قربانیاں ہم کریں، آدمی ہمارے مارے جائیں اور فتح اللہ تعالیٰ کے نام لگے۔یہ ذہنیت شیطان ہر زمانہ میں لوگوں کے اندر پیدا کرتا رہتا ہے اور اُن کے دلوں میں وساوس اور شبہات پیدا کر کے انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں ایک پردہ اور اخفاء کا رنگ ہوتا ہے اس لئے ظاہر بین نگاہوں کو انسانوں کے ہاتھ تو کام کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد کے سامان اُن کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ آسمان پھٹے اور اُس میں سے دنیا والوں کو جبرائیل کا منہ نظر آنے لگے اور جبرائیل بآواز بلند یہ کہ رہا ہو کہ اے لوگو ! آدم اللہ تعالیٰ کا نبی ہے اور تمہاری طرف اُس کا پیغام لے کر آیا ہے اس کی تکذیب اور انکار نہ کرنا۔اور ایسا بھی آج تک کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مثلاً خانہ کعبہ بنانے کا ارادہ کیا ہو اور شام کے وقت میکائل آسمان سے سر نکال کر دنیا والوں کو آواز دے کہ اپنے اپنے سر بچالو اور کمروں کے اندر بیٹھ جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمان سے خانہ کعبہ کے بنانے کے لئے روپوں کی تھیلیوں کی بارش کرنے لگا ہے۔نہ حضرت آدم کے زمانے میں ایسا ہوا، نہ حضرت نوح کے زمانہ میں ایسا ہوا، نہ حضرت کرشن اور رام چندر کے زمانہ میں ایسا ہوا ، نہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں ایسا ہوا، نہ حضرت عیسی کے زمانہ میں ایسا ہوا اور نہ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی اشاعت اور دین کے کاموں کو سرانجام دینے کے لئے آسمان سے روپوں کی بارش کی ہو یا آسمان سے مؤمنوں کے لئے بیجوں کی بارش کی ہو اور وہ خود بخو درات کو اگ کر صبح تک بڑے بڑے درخت بن گئے ہوں۔یا اللہ تعالیٰ کے کسی نبی کو اشتہار چھپوانے کی ضرورت پیش آئی ہو تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے چھپے ہوئے اشتہار اُس کی ضرورت کے مطابق پھینک دیئے ہوں۔یا لڑائی کا موقع ہو اور گھوڑوں اور نیزوں کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے گھوڑوں اور نیزوں کی بارش کی ہو، نہ کبھی آج تک ایسا ہوا اور نہ