انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 99

انوار العلوم جلد ۱۸ ۹۹ اسلام کا اقتصادی نظام مختلف ذرائع سے مجبور کرے گا کہ وہ اس سے چیزیں خریدیں اور حق یہ ہے کہ وہ ان تمام ذرائع کو استعمال میں لائے گا جو بڑے بڑے سرمایہ دار تاجر اپنے استعمال میں لاتے ہیں اور چونکہ روس کی صنعت حکومت کے ہاتھ میں ہے اس لئے حکومت کا سیاسی زور بھی اس کے ساتھ گلی طور پر شامل ہو گا۔روس اس وقت بہت بڑی طاقت ہے۔حکومت اُس کے ہاتھ میں ہے، رُعب اور دبد بہ اس کو حاصل ہے ، ایسی حالت میں اس کا مقابلہ چھوٹے ملک کب کرسکیں گے بلکہ انگلستان اور امریکہ کے تاجر بھی کب کر سکیں گے۔اُس وقت روس کو صرف یہی خیال نہیں ہوگا کہ اس طرح تجارتی نفوذ بڑھا کر اُسے روپیہ آئے گا بلکہ اُسے یہ بھی خیال ہوگا کہ اس کے نتیجہ میں ملک کا صنعتی معیار بلند ہو گا۔مزدور بھوکا نہیں رہے گا، کارخانوں کو بند نہیں کرنا پڑے گا اور غیر ممالک کی دولت کو اپنی طرف زیادہ سے زیادہ کھینچا جا سکے گا۔پس اس کے ہمسایہ کمزور ملک اسی طرح اُس کے لئے دروازے کھولنے پر مجبور ہونگے جس طرح مغربی تجار کے لئے وہ اپنے دروازے کھولنے پر مجبور ہوتے ہیں بلکہ اس سے کہیں اور زیادہ دنیا اقتصادی طور پر ایک سخت دھا کھائے گی۔بعض لوگ اس موقع پر یہ خیالات پیش کر دیا کرتے ہیں کہ ہم روسی حکومت میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح وہی فوائد حاصل کر لیں گے جو روسی باشندے کمیونزم کی وجہ سے حاصل کرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہم کہتے ہیں دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو کمیونزم کی حمایت کی وجہ سے اپنے آپ کو روسی حکومت میں شامل کرنے کیلئے تیار ہیں۔کمیونسٹ طبقہ میں اکثر لوگ ایسے ہیں جو یہ تو چاہتے ہیں کہ اُن کے ملک میں بھی وہی قوانین جاری ہو جائیں جو کمیونسٹ حکومت نے اپنے ملک میں جاری کئے ہوئے ہیں مگر وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ روسی حکومت کا اُنہیں جز و بنا دیا جائے۔انگلستان کے کمیونسٹ اس بات کے تو خواہشمند پائے جاتے ہیں کہ روسی حکومت کے قواعد انگلستان میں بھی جاری ہو جائیں مگر وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ انگلستان روس کا جزو بن جائے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ روس کے قواعدا اپنے طور پر ملک میں جاری کر کے اُس سے فوائد حاصل کریں۔اسی طرح امریکہ کے کمیونسٹ یہ تو خواہش رکھتے ہیں کہ امریکہ کے لوگوں کے متعلق بھی وہی قواعد نافذ کئے جائیں جو روس نے اپنی حکومت میں جاری