انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page x

انوارالعلوم جلد ۱۸ تعارف کتب (۸) تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد حضرت خلیفۃ السیح الثانی نے یہ تقریر مؤرخہ ۲۸/ دسمبر ۱۹۴۵ء کو جلسہ سالا نہ قادیان کے موقع پر ارشاد فرمائی جس میں تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد کو کھول کر بیان فرمایا اور لاکھوں مبلغین تیار کرنے کیلئے بڑھ چڑھ کر چندہ تحریک جدید میں حصہ لینے کی تحریک فرمائی۔اس تعلق میں آپ نے فرمایا کہ:۔حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا میں صحیح طور پر تبلیغ اسلام کرنے کیلئے ہمیں لاکھوں مبلغوں اور کروڑوں روپیہ کی ضرورت ہے“۔اس کے علاوہ حضور نے اس تقریر میں ہر جگہ قرآن کریم کے درس جاری کرنے ، تجارت کی طرف توجہ دینے اور زندگیاں وقف کرنے جیسی تحریکات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے احباب جماعت کو ان کی طرف توجہ دینے کی تلقین فرمائی۔اسی طرح مرکز سلسلہ میں بار بار آنے کی بھی تحریک فرمائی۔آخر پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ:۔دنیا میں وہی جماعت اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتی ہے جس کے افراد اپنے دلوں میں محبت الہی رکھتے ہوں“۔(۹) پارلیمینٹری مشن اور ہندوستانیوں کا فرض مارچ ۱۹۴۶ء میں برطانیہ کی لیبر حکومت نے ہندوستان کے سیاسی تعطل کو دور کرنے کیلئے ایک سکیم دے کر لارڈ پیتھک لارنس (وزیر ہند ) سٹینفورڈ کرپس (لارڈ پر یوی سیل ) اور الیگزنڈر ( وزیر بحر ) پر مشتمل ایک وزارتی مشن ہندوستان بھیجا۔یہ وفد ۲۵ / مارچ ۱۹۴۶ ء کو دہلی پہنچا اور آتے ہی مسلم لیگ اور کانگرس کے زعماء سے بات چیت میں مصروف ہو گیا۔پارلیمنٹری وفد کی ہندوستان میں آمد پر حضرت مصلح موعود نے ایک دینی اور روحانی پیشوا کی حیثیت سے برطانوی ارکان ، مسلم لیگ اور کانگرس سب کو اُن کی نازک ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور ہندوستان کی گنتھی کو عدل و انصاف اور اخلاق کے تقاضوں کے مطابق