انوارالعلوم (جلد 18) — Page 62
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۲ اسلام کا اقتصادی نظام لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت لگا رہے تھے کہ ایک خیمہ میں سے کسی بچہ کے رونے کی آواز آئی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں ٹھہر گئے۔مگر بچہ تھا کہ روتا چلا جاتا تھا اور ماں اُسے تھپکیاں دے رہی تھی تا کہ وہ سو جائے۔جب بہت دیر ہوگئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمہ کے اندر گئے اور عورت سے کہا کہ تم بچے کو دودھ کیوں نہیں پلاتی ، یہ کتنی دیر سے رورہا ہے؟ اُس عورت نے آپ کو پہچانا نہیں اُس نے سمجھا کہ کوئی عام شخص ہے چنانچہ اُس نے جواب میں کہا کہ تمہیں معلوم نہیں عمر نے فیصلہ کر دیا ہے کہ دودھ پینے والے بچہ کو غذا نہ ملے ہم غریب ہیں ہمارا گزارہ جنگی سے ہوتا ہے میں نے اس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے تا کہ بیت المال سے اس کا غلہ بھی مل سکے۔اب اگر یہ روتا ہے تو روئے عمر کی جان کو جس نے ایسا قانون بنایا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُسی وقت واپس آئے اور راستہ میں نہایت غم سے کہتے جاتے تھے کہ عمر ! عمر !! معلوم نہیں تو نے اس قانون سے کتنے عرب بچوں کا دودھ چھڑوا کر آئندہ نسل کو کمزور کر دیا ہے ان سب کا گناہ اب تیرے ذمہ ہے۔یہ کہتے ہوئے آپ سٹور میں آئے دروازہ کھولا اور ایک بوری آٹے کی اپنی پیٹھ پر اُٹھالی۔کسی شخص نے کہا کہ لایئے میں اس بوری کو اُٹھا لیتا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔نہیں! غلطی میری ہے اور اب ضروری ہے کہ اس کا خمیازہ بھی میں ہی بھگتوں۔چنانچہ وہ بوری آٹے کی اُنہوں نے اس عورت کو پہنچائی اور دوسرے ہی دن حکم دیا کہ جس دن بچہ پیدا ہو اُسی دن سے اُس کیلئے غلہ مقرر کیا جائے کیونکہ اُس کی ماں جو اُس کو دودھ پلاتی ہے زیادہ غذا کی محتاج ہے۔قرآن مجید کا حکم کہ ہر فرد و بشر آب دیکھو! یہ انتظام اسلام نے شروع دن سے ہی کیا ہے بلکہ قرآن کریم سے تو پتہ لگتا ہے کہ کی ضرورت کو پورا کیا جائے اس انتظام کی ابتداء حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے نہیں ہوئی بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہوئی ہے۔چنانچہ پہلی وحی جو حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوئی اُس میں یہی حکم ہے کہ ہم تمہیں ایک جنت میں رکھتے ہیں۔جس کے متعلق ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ اِنَّ لكَ الَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلا تَعْرُى۔وانك لا تظموا فيها ولا تضحی یعنی اے آدم! ہم نے تمہارے جنت میں رکھے جانے