انوارالعلوم (جلد 18) — Page 59
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۹ اسلام کا اقتصادی نظام وما الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللهَ شَدِيد العقاب ۲۶ فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اردگرد کی فتوحات کے ذریعہ جو روپیہ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور اُس کے رسول کے لئے ہے اور قرابت والوں کے لئے ہے اور یتامی اور مساکین کیلئے ہے اور اُن مسافروں کے لئے ہے جو علوم پھیلانے اور اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک میں پھر رہے ہوتے ہیں اور ہم نے یہ احکام تمہیں اس لئے دیئے ہیں تا کہ یہ روپیہ پھر امیروں کے پاس نہ چلا جائے اور اُن ہی کے حلقہ میں چکر نہ کھانے لگے۔ان آیات پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے غرباء کے حقوق کی حفاظت کی ہے اور اسلامی اقتصاد کی بنیا دوں کو انتہائی طور پر مضبوط کر دیا ہے۔فرماتا ہے ہم نے یہ اسلامی اقتصادی نظام اس لئے قائم کیا ہے تا کہ اقتصادی حالت کو کوئی دھکا نہ لگے۔اگر ہم آزادی دے دیتے اور اپنی طرف سے حقوق مقرر نہ کرتے تو پھر یہ اموال امراء کی طرف منتقل ہو جاتے اور غرباء ویسے ہی خستہ حال رہتے جیسے پہلے تھے۔پس ہم نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ وہ روپیہ جو حکومت کے قبضہ میں آئے پھر امیروں کے پاس ہی نہ چلا جائے۔اس حکم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حکومت کے اموال کو غرباء اور اُن لوگوں کیلئے جن کی ترقی کے راستہ میں روکیں حائل تھیں مخصوص کر دیا ہے۔یہاں اللہ اور رسول کا جو حق مقرر کیا گیا ہے درحقیقت اس سے مراد بھی غرباء ہی ہیں۔اللہ اور اُس کے رسول کا نام صرف اس لئے لیا گیا ہے کہ کبھی حکومت کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ عبادت گاہیں بنائے، کبھی حکومت کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ مدر سے بنائے، کبھی حکومت کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہسپتال بنائے۔اگر خالی غرباء کے حقوق کا ہی ذکر ہوتا تو جب کبھی حکومت اس روپیہ سے اس قسم کے کام کرنے لگتی اُس وقت لوگ اس پر اعتراض کرتے کہ تم کو کیا حق ہے کہ اس روپیہ سے عبادت گاہیں بناؤ یا شفا خانہ بناؤ یا سڑکیں بناؤ یا سکول بناؤ یہ تو صرف غرباء کے کھانے پینے ، پہننے پر ہی خرچ ہونا چاہئے۔پس اس نقص کے ازالہ کے لئے اللہ اور اُس کے رسول کے الفاظ رکھ دیئے گئے ہیں۔ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ کا حق بھی غرباء کو جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ تو روپیہ لینے کیلئے نہیں آتا اور رسول کا حق بھی