انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 54

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۴ اسلام کا اقتصادی نظام فاقوں سے نہیں مار سکتے تھے۔وہ ہر قیمت پر گندم خرید تے تھے اور چونکہ گندم پر زندگی کا انحصار ہے وہ ان تاجروں کی رپورٹ کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے جو بلیک مارکیٹ ریٹس پر اُن کو گندم دیتے تھے۔میں نے اس کے خلاف کئی ماہ پہلے گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی کہ اُن کے اِس قانون کا خطرناک نتیجہ نکلے گا مگر حکومت نے اس پر کان نہ دھرے اور آخر سخت ہنگامہ اور شور کے بعد معقول طریق اختیار کیا۔پہلے قانون کی وجہ زمینداروں کی خدمت بتائی گئی تھی مگر نتیجہ اُلٹ نکلا۔زمیندار ٹٹ گئے اور تاجر کئی گنے زیادہ قیمت حاصل کر گئے۔غرض نا واجب طور پر منڈی کے بھاؤ میں دخل دینے اور پیداوار اور مانگ کے اصول کو نظر انداز کرنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ورنہ نا واجب بھاؤ میں خواہ وہ قیمت کی زیادتی کے متعلق ہو خواہ قیمت کی کمی کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا۔چنانچہ احتکار سے روکنا جو احادیث سے ثابت ہے اس امر کا یقینی ثبوت ہے کیونکہ احتکار سے روکنے کی غرض یہی ہے کہ نا جائز طور پر بھاؤ کو بڑھایا نہ جائے اور یہ مناعی یقیناً منڈی کے بھاؤ میں دخل دینا ہے مگر جائز دخل ہے۔پس معلوم ہوا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منڈی کے بھاؤ میں دخل اندازی سے منع کیا تھا تو ناجائز دخل اندازی سے منع کیا تھا۔اصولِ اقتصادیات کے ماتحت دخل اندازی سے منع نہیں فرمایا تھا اور حضرت عمرؓ کا فعل عین مطابق شریعت اور اسلام کے ایک زبر دست اصول کا ظاہر کرنے والا تھا۔خلاصہ یہ کہ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ لوگ نا جائز طور پر دولت اپنے قبضہ میں لیا کرتے ہیں اس لئے اسلام نے ان تینوں چیزوں سے روک دیا ہے اور اس طرح ناجائز اور حد سے زیادہ دولت کے اجتماع کے راستہ کو بند کر دیا ہے۔حد سے زائد روپیہ جمع ہونے مگر چونکہ پھر بھی بعض لوگ ذہانت اور ہوشیاری کی وجہ سے ناجائز حد تک روپیہ کما کے راستہ میں مزید روکیں سکتے تھے اور ہوسکتا تھا کہ ان تمام ہدایات اور قیود اور پابندیوں کے باوجود بعض لوگوں کے پاس حد سے زیادہ روپیہ جمع ہو جائے اور غرباء کو نقصان پہنچ جائے۔اس لئے اسلام نے اس کا علاج مندرجہ ذیل ذرائع سے کیا۔