انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 48

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۸ اسلام کا اقتصادی نظام اُٹھا سکتا ہے لیکن دنیا میں ایسے کمزور طبع لوگ پائے جاتے ہیں جو وعظ سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔پس چونکہ دنیا میں ایک عنصر ایسے کمزور لوگوں کا بھی تھا جنہوں نے اس وعظ سے پورا فائدہ نہیں اُٹھانا تھا اس لئے شریعت اسلامی نے بعض ایسے آئین تجویز کر دیے ہیں جن پر عمل کرانا حکومت کے ذمہ ہے اور جن سے دولت ناجائز حد تک کمائی نہیں جاسکتی۔وہ آئین جو اسلام نے مقرر کئے ہیں یہ ہیں۔اسلام میں ناجائز طور پر روپیہ کے حصول کا سد باب سُود کی منائی اوّل اسلام نے سود پر روپیہ لینے اور دینے سے منع کر دیا ہے اور اس طرح تجارت کو محددو کر دیا۔تعجب کی بات ہے کہ عام طور پر ہمارا تعلیم یا فتہ طبقہ ایک طرف تو کمیونزم کے اصول کا دلدادہ ہے دوسری طرف سُود کی بھی تائید کرتا نظر آتا ہے حالانکہ دنیا کی اقتصادی تباہی کا سب سے بڑا موجب یہی سود ہے۔سُود کے ذریعہ ایک ہوشیا را اور عقلمند تاجر کروڑوں روپیہ لے لیتا ہے اور پھر اس روپیہ کے ذریعہ دنیا کی تجارت پر قبضہ کر لیتا ہے۔بڑے بڑے کارخانے قائم کر لیتا ہے اور ہزاروں ہزار لوگوں کو ہمیشہ کی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔اگر دنیا کے مالداروں کی فہرست بنائی جائے تو اکثر مالدار و ہی نکلیں گے جنہوں نے سُود کے ذریعہ ترقی کی ہوگی۔پہلے وہ دو چار ہزار روپیہ کے سرمایہ سے کام شروع کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ وہ اتنی ساکھ پیدا کر لیتے ہیں کہ بڑے بڑے بنکوں سے لاکھوں روپیہ قرض یا اوور ڈرافٹ OVER DRAFT) کے طور پر نکلوا لیتے ہیں اور چند سالوں میں ہی لاکھوں سے کروڑوں روپیہ پیدا کر لیتے ہیں۔یا ایک شخص معمولی سرمایہ اپنے پاس رکھتا ہے مگر اُس کا دماغ اچھا ہوتا ہے وہ کسی بنک کے سیکرٹری سے دوستی پیدا کر کے اُس سے ضرورت کے مطابق لاکھ دو لاکھ یا چار لاکھ روپیہ لے لیتا ہے اور چند سالوں میں ہی اُس سے کئی گنا نفع کما کر وہ کروڑ پتی بن جاتا ہے۔غرض جس قدر بڑے بڑے مالدار دنیا میں پائے جاتے ہیں اُن کے حالات پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں اپنی خالص کمائی سے بڑھنے والا شاید سو میں سے کوئی ایک ہی ہو گا باقی ننانوے فیصدی ایسے ہی مالدار نظر آئیں