انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 20

انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام آؤ مِسْكِينَّا ذَا مَتْرَبَةِ - ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بالمرحمة - نافرماتا ہے ہر مالدار دنیا میں کہتا ہے کہ آهْلَكْتُ ما لا تبدا میں بڑا مالدار آدمی ہوں میں نے بڑا روپیہ دنیا میں خرچ کیا ہے۔ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ میں خرچ کر چکا ہوں۔لیڈا کے معنی ڈھیروں ڈھیر کے ہوتے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا ڈھیر میں خرچ کرتا چلا گیا اور میں نے روپیہ کی کچھ پرواہ نہ کی اب بتاؤ مجھ سے زیادہ اور کون شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اُسے عزت دی جائے اور اُسے پبلک میں عظمت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ا يحسب أن لم يرةُ احد کیا وہ نادان یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا دنیا میں کوئی موجود نہیں ! وہ دعوتیں کرتا ہے اور ایک ایک دن میں سینکڑوں اونٹ ذبح کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے ملک پر بڑا احسان کیا۔فرماتا ہے کیا دنیا اندھی ہے وہ یہ نہیں بجھتی کہ یہ سو اونٹ جو قربان کیا گیا ہے محض اس لئے ہے کہ اُسے شہرت اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔غرباء کی ہمدردی اور اُن کی محبت کا جذبہ اُس کے دل میں کام نہیں کر رہا۔اگر واقعہ میں اس کے دل میں غریبوں کی تکالیف کا احساس ہوتا ، وہ ان کی غربت اور تکالیف کو دور کرنے کا جذبہ اپنے اندر رکھتا تو سو سو اونٹ ایک دن میں ذبح کرنے کی بجائے وہ سو دنوں میں ایک ایک اونٹ ذبح کرتا تا کہ غرباء ایک لمبے عرصے تک بھوک کی تکالیف سے بچے رہتے مگر اُس کے مد نظر تو یہ بات تھی ہی نہیں وہ تو یہی چاہتا تھا کہ پبلک میں میری شہرت ہوا اور لوگ سمجھیں کہ میں بڑا امیر ہوں فرماتا ہے آ يَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَة احد کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اُسے کوئی دیکھتا نہیں ، اُس کے اعمال پر کوئی نظر نہیں رکھتا؟ یہ اُس کا خیال بالکل غلط ہے۔دنیا اتنی اندھی اور بیوقوف نہیں ہے وہ جانتی ہے کہ اُس نے جو کچھ خرچ کیا بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے خرچ نہیں کیا بلکہ اپنے نفس کے لئے خرچ کیا ہے الم نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ فرماتا ہے کیا ہم نے اُسے آنکھیں نہیں دی تھیں کیا وہ نہیں دیکھتا تھا کہ ملک کا کیا حال ہے؟ غریب بھوکے مر رہے ہیں اور کوئی اُن کا پُرسانِ حال نہیں مگر یہ ایک ایک دن میں سو سو دو دو سو اونٹ محض اپنی شہرت کیلئے ذبح کر دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میں نے بڑا کام کیا ہے۔کیا اُس کی آنکھیں نہیں تھیں کہ وہ