انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 318

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۱۸ ہر کام کی بنیا حق الیقین پر ہونی چاہئے جاتی تھی مگر اُس کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے کہا اب میں بھی اپنے نوکر کو ایسی ہی تہذیب سکھاؤں گا۔چنانچہ اس نے واپس جا کر اپنے نوکر کو سکھانا شروع کر دیا مگر وہ اُجڈ ، ان پڑھ اور جاہل تھا اُس پر ان سبقوں کا کیا اثر ہوسکتا تھا پانچ چھ ماہ گزر گئے تو اس نے اپنے شہری دوست کی دعوت کی اور اسے کہا کہ گاؤں کی آب و ہوا اچھی ہوتی ہے آپ میرے ہاں تشریف لا ئیں۔چنانچہ وہ اس دعوت پر اس کے گاؤں میں گیا۔جب دستر خواں بچھا تو اُس نے بھی نقل کرنی شروع کر دی۔زمینداروں کے گھروں میں عام طور پر دہی ہوتا ہے مگر اس نے چونکہ اپنے دوست کو یہ بتانا تھا کہ میرا نو کر بھی بڑا ہوشیار اور فرض شناس ہے اس لئے اسے آواز دے کر کہنے لگا میاں ذرا جانا اور فلاں دُکاندار کے ہاں سے دہی تو لے آنا۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا میرا نوکر بڑا ہوشیار اور مؤدب ہے اب وہ فلاں جگہ پر پہنچ چکا ہوگا ، تھوڑی دیر کے بعد کہا مجھے یقین ہے کہ اب وہ دُکان تک پہنچ چکا ہوگا ، پھر کچھ وقفے کے بعد کہا اب وہ رہی لے رہا ہوگا ، تھوڑی دیر کے بعد اس نے کہا اب وہ وہی لے کر وہاں سے ضرور چل پڑا ہے ، ایک منٹ کے بعد کہنے لگا اب وہ فلاں جگہ پہنچ چکا ہوگا ، پھر کچھ وقت گزرا تو کہا اب مجھے یقین ہے کہ وہ دہی لے کر ڈیوڑھی میں پہنچ چکا ہے۔چنانچہ اسے آواز دے کر کہنے لگا کیوں میاں دہی لے آئے؟ نوکر کہنے لگا تیں اپنے کا ہلے کیوں پئے گئے ہو میں جتی تے لکھ لواں فیر دہی وی لے آواں گا۔یعنی آپ اتنی جلدی کیوں کرتے ہیں میں جوتی تو تلاش کرلوں پھر دہی بھی لے آؤں گا۔دیکھو یہ علم الیقین تھا جس پر اس نے اپنے کام کی بنیا د رکھی اور شرمندگی اور ندامت اسے حاصل ہوئی۔اسی طرح ہندوستانی میتلیٹی MENTALITY) ایسی ہے کہ جب کسی شخص کے سپرد کوئی کام ہو وہ کبھی حق الیقین پر اس کی بنیاد نہیں رکھتا۔اور یہ تو علم الیقین سے بھی پہلے کی بات ہے کہ جب انسان دوسرے سے دریافت کرے کہ کیا فلاں کام ہو گیا ہے؟ تو وہ جواب دے کہ جی ابھی پوچھ کر بتاتا ہوں۔پھر جب پوچھا جاتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ کام نہیں ہوا تو دفتر والے جواب دیتے ہیں کہ ہم نے تو فلاں سے کہہ دیا تھا مگر کمبخت گیا نہیں۔چنانچہ پھر اُسے ڈانٹا جاتا ہے کہ کیوں تم نے یہ کام نہیں کیا۔میں کہتا ہوں تم کیوں اپنے علم کو عین الیقین بلکہ حق الیقین۔نہیں بدل لیتے تا کہ یہاں تک نوبت ہی نہ پہنچے۔