انوارالعلوم (جلد 18) — Page 213
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۳ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا ( تقریر فرموده ۳۱/اکتوبر ۱۹۴۵ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جب کوئی قوم غالب آتی ہے تو اعلیٰ اخلاق کو ترک کر دیتی ہے۔مسلمانوں پر یورپین اعتراض کرتے ہیں مگر انہوں نے خود کیسا گندا نمونہ دکھایا ہے۔مسلمانوں کے غلبہ کے زمانہ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ وہ کسی ملک میں گئے ہوں اور اُس ملک کے باشندوں کو خواہ وہ کتنی ہی ادنیٰ حالت میں ہوں فنا کر دیا ہو اور آپ اُن کے ملک میں بس گئے ہوں۔مسلمان سپین میں گئے اور وہاں سات سو سال تک حکومت کی لیکن اس سات سو سال کے عرصہ میں اُنہوں نے سپین کے باشندوں کو تباہ نہیں کیا۔مسلمان بر براے میں گئے جہاں کے باشندے بالکل وحشی تھے، تباہ حال تھے، ننگے پھرتے تھے لیکن مسلمانوں کے جانے کے بعد اُن کی حالت پہلے سے بہتر ہوگئی۔مسلمانوں نے اُن کو تعلیم دی اور اُن کے اندر ایسا تغیر پیدا کر دیا کہ دنیا کے بڑے بڑے عالم بر بر میں پیدا ہوئے اور اب تک وہی قوم اس ملک میں آباد ہے۔مسلمان مصر میں گئے اور وہاں ایسی شاندار حکومت کی کہ مصر کی زبان ہی عربی ہوگئی لیکن باوجود اس کے آج تک وہاں کی اصلی قو میں موجود ہیں۔مسلمان شام میں گئے اور ایسی حکومت کی کہ شام کی زبان ہی عربی ہوگئی لیکن وہاں کی قومیں اب تک موجود ہیں حالانکہ یہاں کثرت