انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 57

انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام تک جمع ہوتی جاتی ہے لیکن اسلامی اصولِ وراثت کے مطابق جائدادخواہ کتنی بڑی ہو تھوڑے ہی عرصہ میں اولاد در اولاد میں تقسیم ہو کر مالدار سے مالدار خاندان عام لوگوں کی سطح پر آ جاتا ہے اور اس حکم کے نتیجہ میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جس کی بڑی سے بڑی جائداد یا بڑی سے بڑی دولت تین چار نسلوں سے آگے بڑھ سکے۔وہ بمشکل تین چار نسلوں تک پہنچے گی اور پھر سب کی سب ختم ہو جائے گی اور آئندہ نسل کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوگی کہ وہ اپنے لئے اور ا جائداد پیدا کرے۔یورپ اور امریکہ میں بڑے بڑے مالدار اور لارڈز اسی لئے ہیں کہ انگلستان میں یہ قانون ہے کہ جائداد کا مالک صرف بڑا بیٹا ہوتا ہے۔اور امریکہ میں اجازت ہے کہ باپ اپنی جائداد چاہے تو صرف ایک بیٹے کو دے جائے باقی ماں باپ، بھائی بہنیں ، خاوند بیوی سب محروم رہتے ہیں یا ر کھے جا سکتے ہیں۔پھر بعض دفعہ وہاں بڑے بڑے مالدار یہ وصیت کر جاتے ہیں کہ ہماری دس لاکھ کی جائداد ہے اُس میں سے ایک لاکھ تو دوسرے رشتہ داروں کو دے دیا جائے اور نو لاکھ بڑے لڑے کو دے دیا جائے۔اسلام کہتا ہے کہ یہ بالکل نا جائز ہے تمہارے خاندان کی عظمت سوسائٹی کے فائدہ کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تمہارا خاندان ملک میں چوٹی کا خاندان ہمیشہ سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ مال تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جائے تا کہ غرباء کو بڑے بڑے سرمایہ داروں کا مقابلہ نہ کرنا پڑے اور اُن کے لئے ترقی کا راستہ دنیا میں کھلا رہے۔غرض ایک طرف اسلام نے جذبات پر قابو پایا اور اُن تمام محرکات کو مسل دیا جن کے نتیجہ میں انسان یہ چاہتا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ سے زیادہ دولت جمع ہو۔دوسری طرف اُس نے بیہودہ اخراجات کو حکماً روک دیا اور کہہ دیا کہ ہم ان اخراجات کی تمہیں اجازت نہیں دے سکتے۔تیسری طرف روپیہ جمع کرنے کے تمام طریق جن میں یقینی نفع ہوا کرتا ہے اُس نے نا جائز قرار دے دیئے۔چوتھی طرف زکوۃ اور طوعی صدقات وغیرہ کے احکام دے دیئے۔اور اگران سب احکام کے باوجود پھر بھی کوئی شخص اپنی ذہانت اور ہوشیاری کی وجہ سے کچھ زائد روپیہ کما لیتا ہے اور خطرہ ہے کہ اُس کا خاندان غرباء کے راستہ میں روک بن کر کھڑا ہو جائے تو شریعت اُس کے مرنے کے ساتھ ہی اُس کی تمام جائداد اس کے ورثاء میں تقسیم کر دیتی ہے۔