انوارالعلوم (جلد 18) — Page 49
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۹ اسلام کا اقتصادی نظام گے جنہوں نے سُود پر بنکوں سے روپیہ لیا اور تھوڑے عرصہ میں ہی اپنے اعلیٰ دماغ کی وجہ سے کروڑ پتی بن گئے اور لوگوں پر اپنا رعب قائم کر لیا۔پس سُود دنیا کی اقتصادی تباہی کا ایک بہت بڑا ذریعہ اور غرباء کی ترقی کے راستہ میں ایک بہت بڑی روک ہے جس کو دُور کرنا بنی نوع انسان کا فرض ہے۔اگر ان لوگوں کو سُود کے ذریعہ بنکوں میں سے آسانی کے ساتھ روپیہ نہ ملتا تو دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوتی یا تو وہ دوسرے لوگوں کو اپنی تجارت میں شامل کرنے پر مجبور ہوتے اور یا پھر اپنی تجارت کو اس قدر بڑھا نہ سکتے کہ بعد میں آنے والوں کے لئے روک بن جاتے اور ٹرسٹ وغیرہ قائم کر کے لوگوں کے لئے ترقی کا راستہ بالکل بند کر دیتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ مال ملک میں مناسب تناسب کے ساتھ تقسیم ہوتا اور خاص خاص لوگوں کے پاس حد سے زیادہ روپیہ جمع نہ ہوتا جو اقتصادی ترقی کے لئے سخت مُہلک اور ضرررساں چیز ہے۔مگر افسوس ہے کہ لوگ سُود کے ان نقصانات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر اس کے باوجود جس طرح مکڑی اپنے ارد گرد جالا تنتی چلی جاتی ہے اسی طرح وہ سُود کے جال میں پھنستے چلے جاتے ہیں اور اس بات پر ذرا بھی غور نہیں کرتے کہ اُن کے اس طریق کا ملک اور قوم کے لئے کیسا خطرناک نتیجہ نکلے گا اور اس الزام سے کمیونزم کے حامی بھی بُری نہیں وہ بھی اس جڑ کو جو سرمایہ داری کا درخت پیدا کرتی ہے نہ صرف یہ کہ کاٹتے نہیں بلکہ وہ اُسے بُرا بھی نہیں کہتے۔ہزاروں لاکھوں کمیونسٹ دنیا میں ملیں گے جو سو د لیتے ہیں اور اس طرح بالواسطہ سرمایہ داری کی جڑیں مضبوط کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔سُود کی وسیع تعریف اسلام نے سُود کی ایسی تعریف کی ہے جس سے بعض ایسی چیزیں بھی جو عرف عام میں سود نہیں سمجھی جاتیں سُود کے دائرہ عمل میں آ جاتی ہیں اور وہ بھی بنی نوع انسان کے لئے نا جائز ہو جاتی ہیں۔اسلام نے سُود کی یہ تعریف کی ہے کہ وہ کام جس پر نفع یقینی ہو۔اب اس تعریف کے ماتحت جتنے ٹرسٹ ہیں وہ سب نا جائز سمجھے جائیں گے کیونکہ ٹرسٹ کی غرض یہی ہوتی ہے کہ مقابلہ بند ہو جائے اور جتنا نفع تاجر کمانا چاہیں اُتنا نفع اُن کو بغیر کسی روک کے حاصل ہو جائے۔مثلاً ایک ملک کے پندرہ ہیں بڑے بڑے تاجر ا کٹھے ہو کر اگر ایک مقررہ قیمت کا فیصلہ کر لیں اور ایک دوسرے کا تجارتی