انوارالعلوم (جلد 18) — Page 609
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۰۹ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر ( فرمود ه ۲۰ رمئی ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان) آج میں قرآن کریم کی ایک ایسی آیت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہیں جو قرآن کریم کی مشکل آیتوں میں سے سمجھی جاتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس آیت کو پہلے مفسرین حل ہی نہیں کر سکے انہوں نے اس کو حل کرنے کی کوشش تو بہت کی ہے مگر ایک حد تک چل کر رہ گئے ہیں اور ان کے بیان کردہ معنی ناقص ہو گئے ہیں اور ان ناقص معنوں کی وجہ سے قرآن کریم کی اس آیت پر یا یوں کہنا چاہئے کہ صحابہ پر حرف آتا ہے یوں تو میں نے اس آیت کے معنی پہلے بھی بیان کئے ہوئے ہیں اور ۱۹۲۲ ء کے درس میں یہ آیت میرے درس میں آچکی ہے اور میں نے اس کی تشریح کی ہوئی ہے مگر چونکہ ۱۹۲۲ء اور آج کے زمانہ میں بہت سا فرق ہے اور میرے وہ درس جن میں میں نے اس آیت کو بیان کیا تھا شائع بھی نہیں ہوئے صرف جن دوستوں نے میرے درس کے نوٹ لئے تھے انہوں نے ان معنوں سے فائدہ اُٹھایا ہو گا مگر نئی پود کو اس آیت کے معنی کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت جو آجکل کے سے تعلق رکھتی ہے اس کے متعلق میں دوستوں کے سامنے کچھ بیان کر دوں تا کہ نو جوانوں کو جو مشکل اس آیت کے معنی کرنے میں پیش آتی ہے وہ حل ہو جائے۔ایک عجیب بات جو میں نے قرآن کریم کی تفسیر کے بارے میں دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ تغییر میں جو مشکلات مفسرین کو پیش آتی رہیں ان کا جرات کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا جاتا رہا اس لئے جوا لجھنیں انہیں پیش آتی رہیں وہ جوں کی توں قائم رہیں۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مفسرین کسی سوال کو اُٹھائے بغیر خاموشی کے ساتھ اس پر سے گذر جاتے ہیں اور جو معنی ان کے دماغ میں