انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 508

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۰۸ خدا تعالی دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے وإن من أمة الأخلافِيهَا نَذیر پر ایمان لاتے ہیں۔ایک مسلمان کو یہ سن کر کبھی فکر پیدا نہیں ہوتا کہ فلاں قوم میں نبی گزرا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی سب قومیں کسی نہ کسی نبی کے وجود کو تسلیم کرتی ہوں تا کہ قرآن کریم کی سچائی ثابت ہو۔جب ہم چین میں جاتے ہیں تو ہم چینی لوگوں کی زبانی سنتے ہیں کہ ان میں ایک نبی کنفیوشس نامی گزرا ہے ہم یہ سن کر فوراً کہتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلهِ قرآن کریم میں بھی لکھا ہے کہ ہر قوم میں نبی آتے رہے ہیں ، جب ہم ایران میں جاتے ہیں تو پارسی کہتے ہیں ہم میں زرتشت نبی گزرا ہے ہم کہتے ہیں خدا کا شکر ہے قرآن کریم میں بھی ایسا ہی لکھا ہے ، جب ہم یونان میں جاتے ہیں تو وہاں کے لوگوں کی زبانی سنتے ہیں کہ سقراط کہتا تھا کہ خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور میرے پاس فرشتے آتے ہیں ہم کہتے ہیں الْحَمْدُ لِلهِ قرآن کریم کی بات سچ ثابت ہوئی ، اسی طرح ہم جہاں بھی چلے جائیں اور ان لوگوں سے سنیں کہ ہمارا ایک نبی گزرا ہے تو ہم سجدہ شکر بجالاتے ہیں کہ قرآن کریم کی سچائی ثابت ہوگئی۔پس ہم کسی قوم کے برگزیدہ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے بلکہ ہم قرآن کریم کی رو سے مجبور ہیں کہ اس کی سچائی کو قبول کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی راہنمائی کے لئے اپنے انبیاء بھیجے ہیں جو مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کو ہدایت دیتے رہے مگر بدقسمتی سے ہر قوم یہی سمجھ بیٹھی کہ اب ہمارے اس نبی کے بعد کوئی بنی نہیں آسکتا۔حضرت یوسف علیہ السلام جب فوت ہوئے تو اُن کی قوم نے سمجھا کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا کیونکہ ان کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ اب خدا کا خزانہ ختم ہو چکا ہے اسی طرح باقی سب قو میں بھی اپنے اپنے انبیاء یا اوتاروں کی وفات کے بعد سمجھ بیٹھیں کہ اب کوئی نیا نبی یا مامور نہیں آئے گا حالانکہ لوگ صبح کا پکا ہوا کھانا شام کو نہیں کھاتے اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ باسی ہو گیا ہے بلکہ اگر ایک دن کے پکے ہوئے کھانے میں سے کچھ بچ جائے تو اس کو باسی سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔اسی طرح جب ان کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں تو وہ نئے سلوا کر پہنتے ہیں پھر کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں کر سکتا کہ جب دنیا پر ظلمت اور تاریکی چھا جائے اور دنیا کے لوگ صحیح راستہ سے بھٹک کر غلط راستہ پر گامزن ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی راہ نمائی کے سامان پیدا کرے۔غرض اللہ تعالیٰ اپنے بھولے بھٹکے بندوں کے لئے ہدایت کا ضرور سامان پیدا کرتا ہے اور دنیا پر چھائی ہوئی گناہوں کی تاریکی اپنے انبیاء اور مامورین کے ذریعہ سے دُور