انوارالعلوم (جلد 18) — Page 492
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۹۲ دائیں کو بائیں پر فوقیت حاصل ہے ایک دفعہ میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ میری فلاں بات نہ مانے گا میں چار پائی پر نہ سوؤں گا بلکہ زمین پر سوؤں گا اور اس طرح اپنے نفس کو سزا دوں گا مگر پہلی ہی رات اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کر کے مجھے کہہ دیا کہ تمہاری وہ بات منظور کی جاتی ہے جاؤ چار پائی پر سوؤ۔تو بات یہ ہے کہ اگر سزا اصولی ہو اور اُس میں نمائش کا دخل نہ ہو تو تصوف کا حصہ ہے۔بعض لوگ اپنے آپ کو بھوکا رکھنے کی سزا دیتے ہیں اور کئی کئی دن فاقوں میں گزار دیتے ہیں ، بعض لوگ اپنے آپ کو جاگتے رہنے کی سزا دیتے ہیں اور متواتر کئی کئی دن نہیں سوتے اور اس رنگ میں اپنی غلطی کا کفارہ کرتے ہیں۔ان دعوتیں کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ مہمان کو میرے پاس دائیں بٹھا ئیں تا کہ وہ دائیں سے کھانا یا چائے شروع کر سکیں ورنہ اگر وہ مہمان کو بائیں بٹھاتے ہیں تو اپنے اوپر یہ سزا لیں کہ مہمان کے سامنے بعد میں کھانا رکھیں مگر ہر حالت میں شروع دائیں طرف سے ہی کیا جائے اور ہمیشہ دائیں کو سب کاموں میں ملحوظ رکھا جائے۔اب خدا تعالیٰ نے غیر اسلامی لوگوں میں بھی اس کا احساس پیدا کر دیا ہے۔یورپین قو میں تو کیپ لیفٹ (KEEP LEFT) پر عمل کرتی ہیں مگر امریکہ والے کیپ رائٹ KEEP RIGHTD) پر عمل کرتے ہیں اور وہ سٹرک کے دائیں طرف چلتے ہیں وہ کہتے ہیں دائیں چلنے سے بائیں طرف سٹرک پر نظر ہوگی اور دوسری طرف سٹرک کی دیوار ہو گی اس لئے ٹریفک TRAFFICH) میں حادثات کا زیادہ خطرہ نہ ہو گا اس لئے وہ موٹر دائیں طرف چلاتے ہیں اور ڈرائیور کی سیٹ موٹر میں بائیں طرف ہوتی ہے۔میں جب سفر یورپ پر گیا تو فلسطین کے ہائی کمشنر نے میری دعوت کی جب کھانا شروع ہوا تو میں نے چھری کانٹا دائیں ہاتھ سے پکڑا۔جب انہوں نے مجھے دائیں ہاتھ میں چھری کانٹا پکڑے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا حالانکہ وہ بائیں ہاتھ میں چھری کانٹا پکڑنے کے عادی تھے اور یورپین قومیں اسی طرح کرتی ہیں۔ان کی دو باتیں میں نے بہت زیادہ محسوس کیں۔ایک تو یہ کہ جب انہوں نے دعوت کے لئے کہلا بھیجا تو میں نے انہیں پہلے سے اطلاع کر دی تھی کہ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کروں گا۔جب ان کے مکان پر دعوت کے لئے گئے تو چونکہ میں نے پہلے سے کہلا بھیجا تھا کہ عورت سے مصافحہ نہیں کرنا