انوارالعلوم (جلد 18) — Page 465
انوارالعلوم جلد ۱۸ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے چاہئے۔آجکل قربانی اور اصلاح کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔یہ جو کچھ ابھی تک ہورہا ہے یہ تو صرف رسم ہے حقیقت نہیں ہے اب رسموں کو چھوڑ دو اور حقیقت کی شاہراہ پر گامزن ہو جاؤ۔کہتے ہیں کوئی شخص صرف رسمی طور پر عبادات بجالاتا تھا جیسا کہ کئی لوگ صرف ریاء کے طور پر نماز وغیرہ ادا کرتے ہیں کہ لوگ ہمیں نمازی کہیں یا وہ صدقہ کر دیتے ہیں کہ لوگ ہمیں مخیر کہیں اُس شخص کی بھی یہی حالت تھی مگر خدا تعالیٰ اس پر احسان کرنا چاہتا تھا معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا کوئی نیک کام تھا جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ اس پر احسان کرنا چاہتا تھا وہ شخص جہاں سے بھی گزرتا لوگ اس پر اعتراض کرتے تھے۔کئی سال اسی طرح گزر گئے۔ایک دن وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آرہا تھا کہ گلی میں چند لڑکوں نے اسے دیکھ کر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دیکھو! یہ شخص فریبی ہے۔بچوں کے منہ سے یہ الفاظ سن کر اُس کے دل پر سخت چوٹ لگی وہ وہاں سے سیدھا ایک مسجد میں جا گھسا اور خدا تعالیٰ کے حضور سجدے میں گر گیا اور کہا اے خدا ! میں آج سچے دل سے تو بہ کرتا ہوں اور آج سے میں تیرا ہوں۔دوسرے دن جب وہ باہر نکلا تو ہر شخص اُس کی طرف اُنگلی اُٹھاتا تھا اور سب یہی کہتے تھے کہ یہ شخص ولی ہے۔پس ظاہری چیزیں کچھ نہیں ہوتیں جب تک باطن میں تبدیلی نہ پیدا کی جائے مومن کے لئے کوئی چیز بھی چھوٹی نہیں ہونی چاہئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں کسی نے عرض کیا کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگ داڑھیاں منڈواتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اصل چیز تو محبت الہی ہے جب ان لوگوں کے دلوں میں محبت الہی پیدا ہو جائے گی تب خود بخود یہ لوگ ہماری نقل کرنے لگ جائیں گے۔۱۲ حضرت عبداللہ بن عمر کا قاعدہ تھا کہ وہ ہمیشہ حج کو جاتے ہوئے رستہ میں ایک مقام پر قافلہ ٹھہرا کر ایک طرف جنگل میں چلے جاتے اور ایک جگہ کچھ دیر کھڑے ہو کر آ جاتے۔ایک دفعہ کسی شخص نے اُن سے پوچھا کہ آپ ہر دفعہ اسی مقام پر قافلہ ٹھہراتے ہیں اور جنگل میں اس طرف کو چلے جاتے ہیں اس کا کیا سبب ہے؟ آپ نے فرمایا جب میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ حج کو گیا تھا تو رسول کریم ﷺ نے اپنے قافلہ کو اس جگہ روکا تھا اور اس جگہ پیشاب کیا تھا۔میں بھی اس