انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 23

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۳ اسلام کا اقتصادی نظام ایسے تیموں کی طرف کم توجہ کرتے ہیں اس لئے فرماتا ہے اگر کوئی ایسا یتیم ہو جس کے اپنے رشتہ دار موجود ہوں تب بھی اُس کے دل میں اتنا درد ہونا چاہئے تھا کہ وہ اس یتیم کو دیکھ کر سمجھتا کہ یہ یتیم میرا ہے اُن کا نہیں۔باوجود اس کے کہ اس کے اپنے رشتہ دار موجود ہوتے اس کے دل میں یتیم کی اپنی محبت ہوتی کہ وہ سمجھتا کہ میں ہی اس کا نگران اور پُرسانِ حال ہوں وہ اِس کے نگران نہیں ہیں۔اور مشکینا ذا متربة یا اُس نے کیوں ایسے مسکین کو کھانا نہ کھلایا جو ذا متربة تھا یعنی اپنی کمزوری اور ضعف کی وجہ سے پروٹسٹ اور احتجاج بھی نہیں کر سکتا تھا، کسی کے گھر پر دستک بھی نہیں دے سکتا تھا، بلکہ ایسا تھا جیسے مٹی پر گری پڑی کوئی چیز ہو۔دنیا میں بعض ایسے مساکین ہوتے ہیں جو لوگوں کے دروازوں پر پہنچ کر اپنی غربت اور مسکنت کا حال بیان کرتے اور اُن سے امداد کے طالب ہوتے ہیں۔بعض ایسے ہوتے ہیں جو دروازوں پر پہنچ کر خوب شور مچاتے اور آخر گھر والوں سے کچھ نہ کچھ لے کر اگلے دروازہ پر جاتے ہیں اور بعض ایسے مسکین ہوتے ہیں جن کو اگر کچھ دیا نہ جائے تو وہ دروازے سے ملتے ہی نہیں۔ایسے مساکین کو خر گدا کہا جاتا ہے۔پھر کئی ایسے مسکین بھی ہوتے ہیں جو باقاعدہ پروٹسٹ کرتے ہیں۔مظاہرے کرتے ہیں اور وفد بنا بنا کر حکومت کے پاس پہنچتے ہیں یا امراء کے پاس جاتے ہیں اور اُن سے امداد کے طالب ہوتے ہیں۔ایسے مساکین کو تو لوگ پھر بھی کچھ دے ہی دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم تو تم سے اس قدر ہمدردی اور محبت کی امید رکھتے تھے کہ وہ مسکین جو مٹی پر گرا پڑا ہے ، جو جنگل میں اکیلا بے کس اور بے بس پڑا ہے جس میں مظاہرہ کرنے کی بھی ہمت نہیں ، جس میں کسی کے دروازے تک پہنچنے کی بھی طاقت نہیں ، نہ وہ ٹریڈ یونین کا ممبر ہے نہ کسی اور ایسی مجلس کا جو اپنے حقوق کیلئے شور مچاتی ہے، وہ بیمار، کمزور اور نحیف الگ ایک گوشہ تنہائی میں پڑا ہوا ہے، اُس کا دنیا میں کوئی سہارا نہیں، معاش کا اُس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ، وہ بے بس اور ٹیکس نہایت کس مپرسی کی حالت میں پڑا ہوا ہے اور وہ اپنے اندر اتنی طاقت بھی نہیں رکھتا کہ کسی کے دروازہ پر چل کر جاسکے تمہارا فرض تھا کہ تم اُس سہارے کے محتاج کے پاس جاتے اور اُس خاک مذلت پر پڑے ہوئے مسکین کی خبر گیری کرتے ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ امَنُوا پھر یہ شخص اپنی ہمدردی اور اپنی محبت اور اپنے حسن سلوک میں اس قدر ترقی کرتا کہ