انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 377

انوارالعلوم جلد ۱۸ اب عمل اور صرف عمل کرنے کا وقت ہے اس عورت کو آزاد کرایا اور عیسائیوں سے اس کا بدلہ لیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے دلوں میں حمیت اور غیرت موجود تھی اور ایمان کی روشنی ان کے دلوں میں موجود تھی۔مگر اب کیا مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے لئے عارضی جوش بھی پیدا ہوتا ہے؟ اور کیا ان کو اسلام کے لئے قربانیاں کرنے کا شوق ہے، کیا ان کے دماغ کبھی غور و فکر نہیں کرتے کہ کیا تھے اور کیا بن گئے۔اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ مصائب اور آفات اس لئے آ رہی ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو سر انجام دینے کی کوشش نہیں کرتے۔اگر وہ اپنے حالات کا بغور مطالعہ کریں اور ان مصائب کو دُور کرنے کا پورا مہیا کر لیں اور اس کے ساتھ کوشش بھی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان حالات سے نجات نہ پاسکیں۔جب اسلام کی حالت ایسی کمزور ہے اور تم اپنی آنکھوں سے یہ چیز دیکھ رہے ہو تو کونسا سبق باقی ہے جو تم سیکھنا چاہتے ہو۔کیا زمین نے تمہیں سبق نہیں سکھایا ؟ کیا آسمان نے تمہیں سبق نہیں سکھایا ؟ کیا اردگرد کے ہمسایوں نے تمہیں سبق نہیں سکھایا ؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ چاروں طرف ہمارے نشان ظاہر ہو رہے ہیں مگر لوگ اندھے ہو کر چلتے ہیں۔تم ہی بتاؤ کہ کونسی سیکھنے والی بات باقی رہ گئی ہے اور کیوں تمہارا قدم عمل کی طرف نہیں اٹھتا، کس دن کا تمہیں انتظار ہے۔میں حیران ہوں کہ جولوگ اپنے وقتوں اور جائدادوں کی قربانیاں نہیں کر سکتے وہ اپنے نفوس کی قربانیاں کس طرح پیش کر دیں گے۔یہ بات یاد رکھو کہ قومی عزت بغیر قربانیوں کے قائم نہیں ہو سکتی وہ لوگ جنہیں اپنی قومی عزت کا خیال نہیں اور وہ لوگ جن میں قومی غیرت موجود نہیں وہ انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔وہ دنیا میں ایسے ہی پھرتے ہیں جیسے گائیں اور بھیڑیں پھرتی ہیں وہ لوگ اپنی قوم کے لئے کسی فائدے کا موجب نہیں۔ابتدائی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رؤیا دیکھا کہ ایک لمبی نالی ہے جو کہ کئی کوس تک چلی جاتی ہے اور اس پر ہزار ہا بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیڑ پر ایک قصاب بیٹھا ہے وہ بھیٹر میں اس طرح لٹائی گئی ہیں کہ ان کا سر نالی کے کنارہ پر ہے کہ ذبح کرتے وقت ان کا خون نالی میں پڑے باقی حصہ ان کے وجود کانالی سے باہر ہے اور ان تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جو کہ ہر ایک بھیڑ کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے گویا خدا تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں وہ لوگ جو دراصل