انوارالعلوم (جلد 18) — Page 322
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۲۲ ہر کام کی بنیاد حق الیقین پر ہونی چاہئے طرح ہے جس طرح میں کہتا ہوں۔ایسا شخص اپنے مقصد کے حصول کے لئے دوسروں سے بہت زیادہ کوشش کرتا ہے اور اس کے قدم کو غیر معمولی ثبات حاصل ہوتا ہے۔وہ بسا اوقات مشکلات وحوادث کے طوفان میں گھر جاتا ہے مگر اُس کے قدم ڈگمگاتے نہیں اور وہ مضبوطی سے اپنے مقام پر کھڑا رہتا ہے۔غرض جتنا جتنا یقین ہوتا ہے اتنی ہی اس کے مقابلہ میں کوشش کی جاتی ہے۔جسے قطعی یقین حاصل ہوتا ہے وہ بالکل اور طرح کوشش کرتا ہے۔اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ مجنونانہ وار اپنے کام کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے اور کسی بڑی سے بڑی روک کی بھی پرواہ نہیں کرتا وہ سمجھتا ہے کہ جس کام کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ بہر حال ہو جائے گا لیکن جو شخص سمجھتا ہے کہ کام ہوگا ہی نہیں وہ کوشش بھی نہیں کرتا اور اگر کچھ کرتا بھی ہے تو نہایت بے دلی سے، کیونکہ یہ خیال اُس کے دل میں بیٹھ چکا ہوتا ہے کہ کام تو ہونا ہی نہیں۔بہر حال ہر ایک کام اپنی اہمیت کے لحاظ سے یقین کا ایک درجہ چاہتا ہے۔بعض کام متذبذب بھی کر لیتا ہے، بعض قابلِ تذبذب بھی کر لیتا ہے، بعض مضبوط مگر غیر معمولی حالات میں ہل جانے والا بھی کر لیتا ہے لیکن جسے اپنے کام کے متعلق غیر معمولی یقین حاصل ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ جس کام کے لئے میں کھڑا ہوا ہوں وہ نہ ہو زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر میں اپنے کام میں نا کا م نہیں ہوسکتا اُس کے پاس چونکہ اپنے نفس کو تسلی دینے یا لوگوں کو خاموش کرانے کے لئے کوئی عذر نہیں ہوتا اس لئے وہ سر توڑ کوشش شروع کر دیتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ میری کانشنس بھی مجھے ناکامی پر ملامت کرے گی اور دنیا بھی مجھے ملامت کرے گی۔(الفضل قادیان ۱۵ را پریل ۱۹۴۶ء)