انوارالعلوم (جلد 18) — Page 10
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام مسلمانوں کو قرآن کریم کے ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق حاصل ہوگی اُن کے لئے پہلا حکم یہی ہوگا کہ تم خود کسی شخص کو حکومت کے لئے منتخب کرو۔اور پھر دوسرا حکم یہ ہوگا کہ تم کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ اعلیٰ خاندان میں سے ہے، کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ جابر ہے، کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ مالدار ہے، کسی کو اس لئے نہ چنو کہ اُس کے ساتھ جتھہ ہے بلکہ تم اس لئے چنو کہ وہ ملک کی حکومت کے لئے بہترین شخص ثابت ہو گا۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے حکام کو یہ حکم دیدیا کہ جب تمہارا انتخاب عمل میں آ جائے تو عدل و انصاف سے کام لو۔یہی وہ روح تھی جس نے بادشاہت پیدا ہو جانے کے بعد بھی مسلمانوں کے خیالات کو جمہوریت اور انصاف کی طرف مائل رکھا۔اسلامی تاریخ کا ایک شاندار منظر سجین جو ایک مشہور عیسائی کا رخ ہے اُس نے روم کے حالات کے متعلق ایک تاریخی کتاب CB لکھی ہے وہ اس کتاب میں ملک شاہ A کے متعلق جو الپ ارسلان IB کا بیٹا تھا بیان کرتا ہے کہ وہ بالکل نوجوان تھا جب اُس کا والد فوت ہوا۔اُس کے مرنے کے بعد ملک شاہ کے ایک چچا ایک چچیرے بھائی اور ایک سگے بھائی نے بالمقابل بادشاہت کا دعویٰ کر دیا اور خانہ جنگی شروع ہوگئی۔نظام الدین طوسی جو ملک شاہ کے وزیر تھے وہ ( بوجہ شیعہ ہونے کے ) ملک شاہ کو امام موسیٰ رضا کی قبر پر دعا کے لئے لے گئے دعا کے بعد ملک شاہ نے وزیر سے پوچھا۔آپ نے کیا دعا کی؟ وزیر نے جواب دیا یہ کہ خدا تعالیٰ آپ کو فتح بخشے۔ملک شاہ نے کہا اور میں نے خدا سے یہ دعا کی ہے کہ اے میرے ربّ! اگر میرا بھائی مسلمانوں پر حکومت کرنے کا مجھ سے زیادہ اہل ہے تو اے میرے رب ! آج میری جان اور میرا تاج مجھ سے واپس لے لے۔رگبن ایک عیسائی مؤرخ اور نہایت ہی متعصب عیسائی مؤرخ ہے مگر اس واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں بے اختیار لکھتا ہے۔اس ترک (مسلمان) شہزادہ کے اس قول سے زیادہ پاکیزہ اور وسیع نظر یہ تاریخ کے صفحات میں تلاش کرنا مشکل ہے۔مگر یہ روح کہاں سے آئی اور کیوں مسلمانوں کے دلوں اور اُن کے دماغوں میں یہ بات مرکوز تھی کہ حکومت کسی کا ذاتی حق نہیں بلکہ ایک امانت ہے جو ملک کے لوگ خود اپنے میں سے قابل ترین شخص کے سپر د کرتے ہیں اور پھر