انوارالعلوم (جلد 18) — Page 224
انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۲۴ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا پیش کرنے کے لئے بنوایا تھا لیکن اب یہ اس کمرے میں بھدا معلوم ہوگا اس لئے میں اسے پیش نہیں کر سکتا اور یہ اب میرے کام کا نہیں رہا۔میری یہ بات سن کر اس نے بچوں کی طرح بڑی اونچی آواز سے رونا شروع کر دیا کہ مجھ پر رحم کرو میں مسلمان ہوں۔وہ یہ فقرہ بار بار دہرائے اور مجھے غصہ چڑھے کہ یہ کیوں کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اس لئے مجھ پر رحم کرو کیونکہ اس کا مطلب یہ بنتا تھا کہ میں مسلمان ہوں اس لئے میں کیوں دھوکا نہ کروں یہ میرا ہی حق ہے کہ میں دھو کا کروں۔اگر چہ اس کا مطلب یہ نہ تھا لیکن اس سے نکلتا یہی تھا۔اصل میں اُس کا مطلب یہ تھا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے اور تم میرے مسلمان بھائی ہو اس لئے تم مجھے معاف کر دو۔اُس کے شور کوسن کر لوگ اکٹھے ہو گئے اور کہنے لگے بے چارہ غریب ہے غلطی کر بیٹھا ہے آپ اسے معاف کر دیں اور رقم اسے دے دیں۔میں نے کہا میں تو دینے کے لئے تیار ہوں لیکن یہ کیوں کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اس لئے مجھے چھوڑ دو گویا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے فریب اور دھوکا کرنا اس کا حق ہے سیدھی طرح کہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے درگزر کر دیں آئندہ اس طرح نہیں کروں گا۔یہ آجکل کے مسلمانوں کی حالت ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ فریب کرنا ہما راحق ہے۔اگر فریب کرنا ہمارا حق نہیں تو اور کس کا ہے۔اسی طرح انگریز بند ڈبوں میں دودھ بیچتے ہیں اور اس میں کوئی ملونی نہیں ہوتی لیکن ہمارے ہاں جو دودھ بیچتے ہیں اس میں عام طور پر پانی ملا ہوا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا واقعہ ہے کہ میر محمد اسحاق صاحب کو ایک دفعہ یہ خیال پیدا ہوا کہ کسی طرح ان دھو کے بازوں کو پکڑا جائے۔انہوں نے ایک آلہ منگوایا جس سے کہ معلوم ہو جاتا ہے کہ دودھ میں ملونی ہے یا نہیں۔اس آلے میں ایک مقام پر ایک نشان لگا ہوتا ہے جو دودھ کے وزن کے مطابق ہوتا ہے ( ہر چیز کا ایک خاص وزن ہوتا ہے اور دودھ کا بھی ایک وزن ہوتا ہے ) اگر اس نشان تک آلہ دودھ میں رہے تو دودھ ٹھیک سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ آلہ اس نشان سے اونچار ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ دودھ میں پانی ملایا گیا ہے۔چونکہ پانی کا وزن کم ہوتا ہے اور دودھ کا زیادہ اس لئے جب پانی دودھ میں ملتا ہے تو دونوں کا وزن مل کر ایک نیا وزن بن جاتا ہے جو کہ دودھ کے وزن سے ہلکا ہوتا ہے اور آلہ اس نشان تک دودھ میں نہیں ڈوبتا جتنا خالص دودھ ہونے کی وجہ سے ڈوبنا چاہئے اس طرح معلوم ہو جاتا ہے