انوارالعلوم (جلد 18) — Page 196
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۹۶ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام چھ کو جماعتیں ایسی ہیں جہاں الفضل پہنچتا ہے تو اگر چھ سو جماعتوں میں سے چھ یا سات سو نمائندے آ جاتے تو یہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ باقی جماعتوں میں الفضل نہیں پہنچتا اس لئے اُن کے نمائندے نہیں آئے لیکن آٹھ سو میں سے تھیں چالیس نمائندوں کا آنا خوش کن بات نہیں اور الفضل کا نہ پہنچنا میرے نزدیک کافی جواب نہیں ہو سکتا۔پس میرے نزدیک اس میں بہت حد تک دخل اور بہت حد تک ذمہ داری مرکزی ادارے کی ہے۔مرکز کو چاہئے کہ انسپکٹر بھیج کر اپنی جماعتوں کی تنظیم کرے کیونکہ بغیر انسپکٹروں کے ان بیماریوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ بیرونی جماعتیں پورے طور پر مرکز کی آواز کو سن سکتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی غلطیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ مرکز کی آواز صحیح طور پر لوگوں تک نہیں پہنچتی۔صرف قواعد بنانے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ ان قواعد کے نتائج کی طرف خیال رکھنا چاہئے کہ کیسے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اگر ان قواعد کو بدلنے کی ضرورت ہو تو ان کو بدل دیا جائے اور اگر ان میں اصلاح کی ضرورت ہو تو ان میں اصلاح کر دی جائے۔دیکھو ! ذی روح اور غیر ذی روح چیزوں کے قواعد میں کتنا بڑا فرق ہے۔غیر ذی روح چیزوں کے قواعد نہیں بدلتے اور ذی روح چیزوں کے قواعد ہر منٹ اور ہر سیکنڈ بدلتے چلے جاتے ہیں۔پھر ذی روح چیزوں کے دو حصے ہیں۔ایک انسان اور دوسرے حیوان۔ان دونوں کے قواعد میں بھی بہت بڑا فرق ہے۔مثلاً انسانی خوراک اور جانوروں کی خوراک میں کتنا فرق ہے۔آدم کے زمانہ سے لے کر بلکہ اس سے بھی پہلے سے گائے اور بیل گھاس کھاتے آتے ہیں اور ان کے لئے غذا کے بدلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بعض جانور ایسے ہیں کہ وہ جب سے پیدا ہوئے ہیں ایک قسم کا کیڑا کھاتے ہیں۔بعض جانو را ایسے ہیں کہ وہ جب سے پیدا ہوئے گوشت کھاتے ہیں جیسے شیر اور چیتے وغیرہ۔اور بعض گھاس اور بعض پتے کھاتے چلے آئے ہیں۔مگر اس کے مقابل پر انسان کی یہ حالت ہے کہ اگر گھر میں ایک ہی قسم کا کھانا دو تین دن تک پکے تو لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔خاوند بیوی سے خفگی کا اظہار کرتا ہے، بیٹا ماں سے ناراضگی کا اظہار کرتا ہے کہ اتنے دن سے گھر میں ایک ہی کھانا پک رہا ہے اور کوئی چیز پکانے کے لئے نہیں رہی۔پس کجا جانور کہ ان کی خوراک ساری عمر بدلتی ہی نہیں اور کجا انسان کہ اگر ایک ہی قسم کی غذا اسے دو دن کھانی پڑے تو گھر والوں کو صلواتیں