انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page xxi

انوار العلوم جلد ۱۸ ΙΔ تعارف کتب محض اس وجہ سے ہے کہ افریقہ میں احمد یہ مشن کثرت سے پھیل گئے ہیں اور ان کا مقابلہ عیسائیت سے نہیں ہو سکتا۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے واِذَا الوُحُوشُ حُشِرَتْ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کا ہمیں بھی ایک ذریعہ بنالیا۔(۲۸) ہندوستانی اُلجھنوں کا آسان ترین حل حضرت مصلح موعود نے مؤرخہ یکم مئی ۱۹۴۷ء کو بعد نماز مغرب مجلس علم و عرفان میں اپنے اس تازہ الہام فَإِنْ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ حَقٌّ فَاظْهِر كا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان کی تقسیم کے سلسلہ میں پیدا ہونے والی اُلجھنوں کا آسان ترین حل پیش فرمایا۔آپ نے تقسیم کے سلسلہ میں یہ اصول بیان فرمایا کہ:۔قاعدہ یہ ہونا چاہئے کہ جس ملک یا علاقہ کی آواز کا صحیح طور پر پتہ نہ لگ سکے وہاں کے ہر ضلع اور ہر تحصیل کے لوگوں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور جہاں فحسبہ والی بات ہو وہاں ریفرنڈم کر لیا جائے۔میرے نزدیک ایسا ہونا چاہئے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسلمان اپنے حقوق مانگنے میں حق پر ہیں تو ان کو ان کے حقوق دیئے جائیں اور اگر ہندوؤں کے مطالبات جائز ہیں تو ان کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔(۲۹) نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مؤرخہ ۷ رمئی ۱۹۴۷ء کو بعد نماز مغرب بمقام قادیان یہ تقریر ارشادفرمائی جس میں آپ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب بھی نیکی کی کوئی تحریک پیدا ہو تو فوراً اُس پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے اس لئے نیکی کے مواقع کو کبھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔پس جب کسی انسان کے دل میں نیکی کرنے کا ارادہ پیدا ہو تو اُس کو ضائع