انوارالعلوم (جلد 18) — Page 183
انوار العلوم جلد ۱۸ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی کے حقوق کو پیش کر سکوں گا ؟ کیا کوئی عدالت اس وکیل کے ایسے دعوی کو باوجو دسچا سمجھنے کے قبول کر سکے گی؟ اور کیا اِس قسم کی اجازت کی موجودگی میں ڈیموکریسی ، ڈیموکریسی کہلا سکتی ہے؟ ڈیموکریسی یا جمہوریت کے اصول کے لحاظ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کسی جماعت کی نمائندگی کرنے کا کون اہل ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس جماعت کی اکثریت کس کو اپنا نمائندہ قرار دیتی ہے۔ان حالات میں کانگرس کو ہندوؤں کے سوا تمام دوسری اقوام کا نمائندہ اسی صورت میں قرار دیا جا سکتا ہے اگر ان اقوام کے اکثر افراد کانگرس میں شامل ہوں۔جہاں تک ہمارا علم ہے کانگرس میں ہندو قوم کی اکثریت کے نمائندے تو ہیں لیکن مسلمانوں ، سکھوں یا عیسائیوں کی اکثریت کے نمائندے نہیں اس لئے خواہ کانگرس مسلمانوں ، سکھوں اور عیسائیوں کے حقوق کی سکیم مسلمانوں ، سکھوں یا عیسائیوں کے نمائندوں سے بہتر تجویز کر سکے وہ جمہوری اصول کے مطابق مسلمانوں ، سکھوں اور عیسائیوں کی نمائندہ نہیں کہلا سکتی۔لیکن باوجود غیر جانبدار اور ملکی تحریک ہونے کے ہندوؤں کی نمائندگی کر سکتی ہے کیونکہ ہندوؤں کی اکثریت اسے تسلیم کر چکی ہے۔جب حالات یہ ہیں تو عقلاً اور جمہوری اصول کے مطابق قطع نظر اس کے کہ کانگرس کی سکیم مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے متعلق بہتر ہے یا مسلم لیگ کی سکیم، مسلم لیگ کی سکیم ہی کو مسلمانوں کی پیش کردہ سکیم سمجھا جائے گا اور کانگرس کو یا تو میدان چھوڑ کر ہندو مسلم سمجھوتے کیلئے ہندو مہا سبھا اور مسلم لیگ کو باہمی سمجھوتے کی دعوت دینی ہوگی یا پھر خود ہندو اکثریت کی نیابت میں مسلم لیگ سے سمجھوتہ کرنا ہوگا اس کے سوا اور کوئی معقول صورت نہیں ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ اگر کانگرس مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندہ نہیں ہے تو مسلم لیگ کے نمائندہ ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم لیگ کو نمائندہ قرار دینے کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ گاندھی جی ایک طرف اور وائسرائے ہند دوسری طرف اسے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھ کر اس سے اسلامی حقوق کے بارہ میں گفت و شنید کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔پس مسلم لیگ نمائندہ ہے یا نہیں ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اب کانگرس اور گورنمنٹ اس کے سوا کوئی دوسرا نظریہ اختیار نہیں کر سکتی۔اگر مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ نہیں ہے تو کیا کانگرس اور حکومت ہند دونوں مسلمانوں کے حقوق کا ایک غیر نمائندہ جماعت کے ساتھ تصفیہ کر