انوارالعلوم (جلد 18) — Page 168
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۶۸ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں لیکن اگر اُس کے پاس وجہ معقول نہ ہو تو وہ کیا جواب دے گا ؟ یا اگر جواب دیتا ہے اور وہ غلط نکلتا ہے تو وکیل کا کیا نقصان ہو گا نقصان تو موکل کا ہی ہوگا۔یہ باتیں آپ کی بہن نے جا کر پیر صاحب کے سامنے بیان کیں۔وہ کہنے لگے کہ یہ تیرے ذہن کی باتیں نہیں بلکہ تجھے یہ باتیں نورالدین نے سکھائی ہیں۔پھر کہنے لگے کہ تم فکر نہ کرو جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم سے پوچھے گا تو ہم کہیں گے کہ اس کے ذمہ دار ہم ہیں اس کا حساب ہم سے لیا جائے پھر تسیں دگر دگڑ کر دے ہوئے جنت وچ چلے جاناں ، یعنی پھر تم وگڑ ڈگڑ کرتے ہوئے جنت میں چلے جانا۔انہوں نے کہا پیر صاحب ! سوال تو آپ کا ہے کہ آپ جنت میں کیسے داخل ہونگے ؟ پیر صاحب نے جواب دیا ہمارا کیا ہے جب آپ لوگ جنت میں چلے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ہم سے کہے گا کہ ان کو تم نے جنت میں بھیج دیا ہے اب تم بولو۔تو ہم کہیں گے کہ ہمارے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے کیا ہمارے نانا امام حسین کی قربانی کافی نہ تھی کہ آج ہمیں اعمال بجالانے کے لئے دق کیا جاتا ہے؟ اس پر ہمیں اللہ تعالیٰ بغیر حساب لئے جنت میں داخل کر دیگا۔میں سمجھتا ہوں یہ خیالات لوگوں میں اسی لئے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ نجات ہمارے اپنے اعمال سے وابستہ ہے یہی وجہ ہے کہ اگر وہ کوئی نیکی کا کام کرتے بھی ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایک احسان سمجھتے ہیں اور یہی ذہنیت ہے جو نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت پیدا نہیں ہونے دیتی۔لوگ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کر کے بھی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ پر بڑا احسان کر دیا ہے اور احسان خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، تھوڑا ہو یا زیادہ برا بر ہوتا ہے۔گویا وہ اللہ تعالیٰ کو رشوت دیتے ہیں۔جس طرح کسی شخص کے پاس ٹکٹ نہ ہو اور وہ ریل گاڑی میں سفر کر رہا ہوا ور ٹکٹ چیک کرنے والا آ جائے تو وہ بجائے پورا کرایہ ادا کرنے کے کچھ رشوت دے کر ٹکٹ چیکر کو خاموش کرا دے۔یہی حال ان لوگوں کا ہے وہ اس ایک نیکی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی آنکھیں نیچی کرنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اگر ہم ساری عمر بھی نیکیاں کرتے چلے جائیں تو بھی ہماری ذمہ داری ادا نہیں ہوتی۔وہ لوگ جو کچھ دیر کام کرنے کے بعد کچھ عرصہ قربانی کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ جاتے ہیں اور اُن کے اندر سُستی اور غفلت پیدا ہو جاتی ہے اور اس امر کی ضرورت ہوتی ہے کہ اُن کو پھر بیدار کیا جائے اور اُن کو ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے