انوارالعلوم (جلد 18) — Page 146
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۴۶ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید راستہ سے گیا تھا اور ہمارے نانا صاحب میر ناصر نواب صاحب مرحوم جو جہا ز سیدھا عرب جاتا ہے اُس میں گئے تھے اُنہوں نے جب دیکھا کہ لوگ ان سے مذاق کرتے ہیں اور ان سے روپیہ لوٹ لینا چاہتے ہیں تو انہوں نے ان کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔وہ جہاز سے اُترے اور مجھ سے ملے تو میاں عبدالوہاب صاحب ان کے ساتھ تھے۔میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ بڑا سادہ آدمی ہے اور اس کی سادگی کی وجہ سے کچھ شرارتی لوگ اس کو لو ٹنا چاہتے تھے اس لئے اس کو میں نے اپنے ساتھ لے لیا۔میں نے دیکھا کہ واقعی وہ بڑا سادہ آدمی تھا قرآن شریف کا ان کو کچھ پتہ نہیں تھا، نماز انہیں آتی نہیں تھی میں حیران تھا کہ جب ان کو دین کا کچھ علم ہی نہیں تو آخر وہ کس طرح یہاں آئے ؟ میں نے اُن سے پوچھا آپ کا مذہب کیا ہے؟ یہ سوال کر کے میں منٹ بھر خاموش انتظار کرتا رہا جب اُنہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو میں سمجھا کہ شاید سنا نہیں۔پھر میں نے اسی سوال کو اونچی آواز سے دُہرایا کہ میاں عبدالوہاب ! تمہارا مذہب کیا ہے؟ وہ کہنے لگے جلدی نہ کرو سوچ کر جواب دیتا ہوں۔مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ سوچنے کا کیا مطلب ، حساب تھوڑا ہی ہے کہ ضر میں دے رہے ہیں۔میں نے کہا میاں عبدالوہاب ! میں نے مذہب پوچھا ہے سوچنے والی بات کیا ہے؟ وہ کہنے لگے یونہی نہ گھبرا دیا کرو ذرا سوچ تو لینے دو۔پھر میں نے کہا اس کا تو ہر ایک کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا مذہب کیا ہے آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ کہنے لگے واپس جاؤں گا تو ملا سے لکھوا کر بھیجوں گا۔میں نے کہا میں ملا کا مذہب نہیں پوچھ رہا آپ کا مذہب پوچھ رہا ہوں۔پھر کہنے لگے ٹھہر جائیں ذرا سوچ تو لینے دیں آپ تو گھبرا دیتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد سوچ سوچ کر کہنے لگے میرا مذہب ہے علیہ۔میرے ذہن میں نہ آیا کہ علیہ کا کیا مطلب ہے۔میں نے کہا کہ علیہ تو آج تک کوئی مذہب نہیں سنا۔پھر انہوں نے کہا تم تو گھبرا دیتے ہو سوچنے نہیں دیتے۔خیر تھوڑی دیر تک علیہ علیہ کر کے کہنے لگے میرا مذہب ہے علیہ امام۔اُس وقت میرا ذہن اس طرف گیا کہ علیہ امام سے مطلب امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔تب میں نے جان کر انہیں چڑانا شروع کیا کہ بتائیے آپ کا مذہب کیا ہے چپ کیوں ہیں؟ اس پر وہ پھر کہنے لگے میں نے جو کہا ہے ملا سے لکھوا دوں گا۔میں نے پھر کہا کہ میں ملا کا مذہب نہیں پوچھتا آپ کا پوچھتا ہوں۔آخر بڑا سوچ سوچ کر