انوارالعلوم (جلد 18) — Page 66
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۶ در اسلام کا اقتصادی نظام اور کمیونزم میں ایک فرق در حقیقت انفرادی آزادی ایک طرف انسانی قابلیت کی نشوونما کے لئے ضروری ہوتی ہے اسلام اور اور دوسری طرف موت کے بعد کی اعلیٰ زندگی کا دارو مدار اقتصادیات میں انفرادی آزادی کے قیام پر ہے مگر کمیونزم انفرادی جد و جہد کا راستہ بند کرتی اور حریت شخصی کو مٹا دیتی ہے جو ایک بہت بڑا نقص ہے ۔ یہ اختلاف ہے جو اسلام اور کمیونزم میں پایا جاتا ہے۔ مگر بہر حال نتیجہ سے اُسے کوئی اختلاف نہیں ۔ روس نے اس نظریہ پر عمل کر کے جو اقتصادی پروگرام بنایا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس نے اس میں خاص ترقی کی ہے اور وہاں کے عام لوگوں کی مالی حالت یا یوں کہو ( گو کمیونسٹ اس سے متفق نہ ہوں ) کہ یورپین حصہ کی مالی حالت آگے سے اچھی ہے اور ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہاں غرباء کو روٹی ملی ، کپڑا ملا ، مکان ملا، علاج کیلئے دوائیں میسر آئیں اور تعلیم کیلئے مدر سے اُن کے لئے کھولے گئے ۔ پس جہاں تک روس کی کمیونسٹ پارٹی کے اس نتیجہ کا تعلق ہے اسلامی روح اقتصادیات اس پر خوش ہی ہو گی لیکن جیسا کہ اوپر کے بیان سے ظاہر ہے ذرائع اور بعض نتائج سے اسلام موافق نہیں ہو سکتا۔ کمیونزم پر مذہبی لحاظ سے بعض اعتراضات میں چونکہ اسلام کی نمائندگی کر رہا ہوں ۔ اس لئے سب سے پہلے میں کمیونسٹ اقتصادی نظام کے اُن حصوں کو لیتا ہوں جو مذہب پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ سب سے پہلا اعتراض جو کمیونسٹ نظام پر مجھے اور ہر موت کے بعد کی زندگی کے ماننے والے کو ہونا چاہئے یہ ہے کہ اس میں شخصی طوعی جد و جہد جو زندگی کے مختلف شعبوں میں ظاہر ہو کر انسان کو اُخروی زندگی میں مستحق ثواب بناتی ہے اُس کے لئے بہت ہی کم موقع باقی رکھا گیا ہے ۔ بجائے اس کے کہ اُس سے ضروری حصہ دولت کا لے کر باقی حصہ کے خرچ کو اُس پر چھوڑا جائے کہ وہ اُسے جس رنگ میں چاہے صرف کرے ۔ اُس کی خوراک اور لباس کے سوا اُس کے پاس کچھ چھوڑا ہی نہیں گیا کہ وہ اپنی اُخروی زندگی کے لئے بھی کوئی جدو جہد کرے ۔ وہ روٹی کھا