انوارالعلوم (جلد 18) — Page 61
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام پھر فرمایا کہ ہماری اس نصیحت کو یا د رکھنا کہ یہ مال امراء کی طرف پھر منتقل نہ ہونے پائے۔آخر میں وما الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ کہہ کر امراء کو سمجھایا کہ دیکھو تم اس روپیہ کو کسی طرح حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا کہ تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ماتحت اپنی زندگی بسر کرو۔اسلامی حکومت کا ہر شخص کیلئے اسلامی حکومت نے ان احکام پر اس طرح عمل کیا کہ جب وہ اموال کی مالک ہوئی تو اُس نے ہر روٹی کپڑے کا انتظام کرنا ایک شخص کی روٹی کپڑے کا انتظام کیا۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب نظام مکمل ہوا تو اُس وقت اسلامی تعلیم کے ماتحت ہر فردو بشر کے لئے روٹی اور کپڑا مہیا کرنا حکومت کے ذمہ تھا اور وہ اپنے اس فرض کو پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا کرتی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس غرض کیلئے مردم شماری کا طریق جاری کیا اور رجسٹرات کھولے جن میں تمام لوگوں کے ناموں کا اندراج ہوا کرتا تھا۔یورپین مصنفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پہلی مردم شماری حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کی اور اُنہوں نے ہی رجسٹرات کا طریق جاری کیا۔اس مردم شماری کی وجہ یہی تھی کہ ہر شخص کو روٹی کپڑا دیا جاتا تھا اور حکومت کیلئے ضروری تھا کہ وہ اس بات کا علم رکھے کہ کتنے لوگ اس ملک میں پائے جاتے ہیں۔آج یہ کہا جاتا ہے کہ سوویٹ رشیا نے غرباء کے کھانے اور اُن کے کپڑے کا انتظام کیا ہے۔حالانکہ سب سے پہلے اس قسم کا اقتصادی نظام اسلام نے جاری کیا ہے اور عملی رنگ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہر گاؤں ، ہر قصبہ اور ہر شہر کے لوگوں کے نام رجسٹر میں درج کئے جاتے تھے ، ہر شخص کی بیوی ، اُس کے بچوں کے نام اور اُن کی تعداد درج کی جاتی تھی اور پھر ہر شخص کیلئے غذا کی بھی ایک حد مقرر کر دی گئی تھی تا کہ تھوڑا کھانے والے بھی گزارہ کر سکیں اور زیادہ کھانے والے بھی اپنی خواہش کے مطابق کھاسکیں۔تاریخوں میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں جو فیصلے فرمائے اُن میں دودھ پیتے بچوں کا خیال نہیں رکھا گیا تھا اور اُن کو اُس وقت غلہ وغیرہ کی صورت میں مددملنی شروع ہوتی تھی جب مائیں اپنے بچوں کا دودھ چھڑا دیتی تھیں۔ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ