انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 610

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۱۰ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر آتے ہیں وہ کر دیتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جو اُلجھن اور مشکل پیدا ہوئی تھی وہ حل ہوئی ہے یا نہیں یا پھر اس طرح کرتے ہیں کہ ایسی آیت کا جس میں انہیں کسی مشکل کا سامنا ہوا ایک ٹکڑالے لیتے ہیں اور اس کے معنی کر دیتے ہیں اور اس پر خوش ہو جاتے ہیں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ آیت کے ایک حصہ کے معنی کر دینے سے اُلجھن دور نہیں ہو سکتی جب تک ساری آیت کوحل نہ کیا جائے مگر وہ اپنی سمجھ کے مطابق آیت کے ایک ٹکرے کے معنی کر دیتے ہیں اور جو ٹکڑا اُن کے لئے مشکل پیش کرتا ہو اُس کو چھوڑ کر گزر جاتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے ایک لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں کوئی شخص اپنے باغ میں گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک شخص انگوروں کا ٹوکرا سر پر رکھے اس کے باغ میں سے نکل رہا ہے ، باغ کا مالک اس کے پاس پہنچا اور کہا تمہارا کیا حق ہے کہ انگوروں کا ٹوکرا بھر کر میرے باغ سے لئے جا رہے ہو۔ٹوکرے والے نے کہا پہلے تم میری بات اچھی طرح سُن لو پھر اگر تم نے کچھ کہنا ہو تو کہہ لینا۔مالک نے کہا اچھا بتاؤ۔اس نے کہا دراصل بات یہ ہے کہ میں سٹرک پر سے گزر رہا تھا کہ ایک بگولا بڑے زور سے آیا میں نے اس بگولے سے بچنے کی بہت کوشش کی ہاتھ پاؤں مارے مگر میں بیچ نہ سکا اور بگولا نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ایک ہی لمحہ میں اُس نے مجھے باغ کے اندر پھینک دیا اب تم ہی بتاؤ اس میں میرا کوئی قصور ہے؟ مالک نے کہا اس میں تو تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ٹوکرے والے نے پھر کہنا شروع کیا جب میں آپ کے باغ میں گرا تو میں باغ سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگا مگر دوبارہ ایک بگولا جو پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا آیا اور اس نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے کر انگور کی بیل پر گرا دیا میں نے اس سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے کیونکہ یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ جان سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں ہو سکتی اور جان بچانے کے لئے انسان بہت کچھ کر گزرتا ہے میں نے جب بگولا سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے تو انگور گر نے شروع ہو گئے نیچے ٹوکرا پڑا تھا انگور اس میں جمع ہو گئے ، اب تم ہی بتاؤ اس میں میرا کوئی قصور ہے؟ مالک نے کہا اس میں تو تمہارا کوئی قصور نہیں مگر تم یہ بتاؤ کہ تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ انگوروں کا ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کر گھر کی طرف چل پڑو۔اس نے کہا بس یہی بات میں بھی سوچ رہا تھا کہ آخر یہ کیا ہوا کہ انگوروں کا ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کر میں گھر کی طرف جا رہا ہوں۔اب دیکھو دو مشکلات تو اس نے