انوارالعلوم (جلد 18) — Page 600
انوار العلوم جلد ۱۸ انصاف پر قائم ہو جاؤ تمہارے ساتھ وہی سلوک کروں گا اور آپ نے انہیں لا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر معاف فرمایا دیا۔پس رسول کریم ﷺ کا عمل بھی یہی ہے کہ آپ نے باوجود دشمن کے انتہائی مظالم کے ان کو معاف فرما دیا۔مسلمانوں پر۔پس مؤمن جہاں دلیر اور بہادر ہوتا ہے وہاں وہ عدل، انصاف اور اس سے بڑھ کر احسان کو نہیں چھوڑتا۔لڑائیاں ہوتی ہیں، مرنے والے مرتے ہیں، قتل ہونے والے قتل ہوتے ہیں اور قتل کرنے والے قتل کرتے ہیں لیکن ان باتوں کو لوگ بھول جاتے ہیں مگر احسان ایک ایسی چیز ہے جو تاریخوں میں محفوظ ہو جاتی ہے۔پس ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ عربوں کے ان مظالم سے جو انہوں نے بہ کئے صرف وہی لوگ واقف ہیں جو تاریخ دان ہیں یا جنہوں نے تواریخ کا مطالعہ کیا ہے لیکن آپ کے اس احسان والے فعل کو ساری دنیا جانتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ نے تقویٰ رکھا ہے، صرف عدل تقویٰ کے قریب تو ہو جاتا ہے مگر تقویٰ نہیں کہلا سکتا۔حضرت امام حسنؓ کے متعلق آتا ہے کہ آپ کا ایک نوکر ہمیشہ بے احتیاطیاں کرتا تھا اور کئی چیزیں توڑ پھوڑ دیتا تھا۔ایک دفعہ حضرت امام حسنؓ کے پاس کوئی شخص تحفہ ایک شیشے کا نہایت ہی خوبصورت برتن لایا جو اس نوکر نے تو ڑ دیا اُنہوں نے خشمگیں نگاہوں سے نوکر کی طرف دیکھا تو اُس نے جھٹ کہا وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ آپ نے سنتے ہی کہا اچھا میں تمہیں کچھ نہیں کہتا۔نوکر نے کہا کہ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ آپ نے کہا اچھا میں تمہیں معاف بھی کرتا ہوں۔نوکر نے پھر کہا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ آپ نے فرمایا اچھا میں تمہیں آزاد کرتا ہوں۔پس مؤمن وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے اور تقویٰ کی را ہوں کو اختیار کرے ورنہ خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ ایک بہت بڑی خندق ہے اُس پر فرشتوں نے بھیٹرمیں لٹائی ہوئی ہیں ، فرشتوں کے ہاتھوں میں چھریاں ہیں اور وہ انہیں ذبح کرنا چاہتے ہیں۔بھیڑیں بڑا شور مچا رہی ہیں مگر فرشتے حکم کے انتظار میں آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اتنے میں آسمانی حکم آگیا اور فرشتوں نے چھریاں پھیر دیں