انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 599

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۹۹ انصاف پر قائم ہو جاؤ نیچے نہ ہونے پائی تھی کہ جس طرح باز ایک چڑیا پر حملہ کرتا ہے اِس طرح وہ دونوں لڑ کے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ دشمن کی صفوں کو کاٹتے ہوئے آنِ واحد میں ابو جہل کے پاس پہنچ گئے۔پہریداروں کو اس بات کا گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ کوئی شخص اتنی صفوں کو چیر کر اور پہریداروں کی موجودگی میں ابو جہل تک پہنچ سکتا ہے۔ان دونوں لڑکوں نے بیشتر اس کے کہ کوئی سپاہی ان۔پر حملہ کرے ابو جہل پر حملہ کر دیا اور اس کو پہلے ہی حملے میں زمین پر گرا دیا عکرمہ بن ابو جہل جو اُس وقت اپنے باپ کے ساتھ کھڑا تھا وہ اپنے باپ کو تو نہ بچا سکا مگر اُس نے ایک لڑکے پر ایسا ا وار کیا کہ اُس کا ایک بازو کٹ گیا اور جسم کے ساتھ لٹکنے لگا۔لٹکتا ہوا باز و چونکہ لڑنے میں مزاحم ہوتا تھا اس لئے اس نے جھک کر بازو کو پاؤں کے نیچے رکھ کر زور سے الگ کر دیا۔غرض دشمن کے مظالم مسلمانوں پر اس قدر تھے کہ صحابہ کے دل پک گئے تھے مگر جب مکہ فتح ہوا اور رسول کریم کے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے تو صلى الله جیسا کہ میں نے بارہا بیان کیا ہے ایک جگہ ابوسفیان کھڑا اسلامی فوجوں کے مارچ کا نظارہ دیکھ رہا تھا کہ ایک انصاری جو ایک قبیلہ کی فوج کو مارچ کراتے ہوئے ابوسفیان کے پاس سے گزرے اور اُنہوں نے ابوسفیان کو مخاطب کر کے کہا آج ہم مکے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور مکہ والوں کو ذلیل کر دیں گے۔ابوسفیان یہ سن کر گھبرایا ہوا رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچا اور کہا آپ نے سنا مدینہ کا ایک انصاری مجھے کیا کہتا تھا ؟ آپ نے فرمایا تم ہی بتاؤ۔اُس نے کہا وہ کہتا تھا کہ آج ہم ملے کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔آپ نے فرمایا آج کے دن تو اللہ تعالیٰ مکہ کی عزت کو قائم کرنا چاہتا ہے ذلیل کرنا نہیں چاہتا۔آپ نے اُسی وقت یہ بات کہنے والے اسلامی فوج کے کمانڈر کو بلوایا اور اُسے معزول کر کے اُس کی جگہ اُس کے بیٹے کو کمانڈر بنا دیا۔نے جب مکہ فتح ہوا تو آپ نے مکے کے تمام قبائل کو جمع کیا اور فرمایا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ تم نے میرے ساتھ میرے اعزہ واقرباء کے ساتھ اور میرے صحابہ کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ؟ اب میں فاتح ہوں اور تم مفتوح ؟ اب میں بااختیار ہوں اور تم بے اختیار، اب بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ اُنہوں نے عرض کیا جو سلوک حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا وہی سلوک آپ ہمارے ساتھ کریں۔آپ نے فرمایا ہاں ہاں ! میں بھی