انوارالعلوم (جلد 18) — Page 598
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۹۸ انصاف پر قائم ہو جاؤ ساتھ یہ کیا ہے۔ہندہ نے جب اس کی یہ بات سنی تو وہ نہایت جوش کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور اُس نے کہا عربو! تمہاری شجاعت اور بہادری کدھر گئی؟ کیا تم نے اتنی کمینہ اور ذلیل حرکات شروع کر دی ہیں کہ تم ایک عورت پر ہاتھ اُٹھاتے بھی نہیں جھجکتے ؟ پس اس قسم کے مظالم تھے جو کفار کی طرف سے مسلمانوں پر روا ر کھے گئے اور انہوں نے برداشت کئے مگر یہی وہ مظالم تھے جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہر میدان میں مسلمانوں کی امداد کی۔جنگ بدر کے موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ جب دونوں فوجیں آمنے سامنے تھیں اور لڑائی ابھی شروع نہیں ہوئی تھی تو میں نے خیال کیا کہ آج میں کفار کے مظالم کا بدلہ لوں گا مگر چونکہ ایک ماہر جنگجو کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ لڑتے وقت اُس کے دونوں پہلو مضبوط ہوں اس لئے میں نے دیکھا کہ مدینہ کے دو کم سن انصاری لڑکے میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں اُن کو دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا کیونکہ میں نے سمجھا کہ یہ کم عمر لڑکے اور وہ بھی انصار کے جن کو جنگ کرنی آتی ہی نہیں میرے پہلوؤں کو کیا محفوظ رکھ سکیں گے۔مجھے افسوس ہوا کہ میں اپنے ارمانوں کو جی بھر کر نکال نہ سکوں گا مگر میرے دل میں یہ خیال آیا ہی تھا کہ مجھے ایک طرف سے کہنی لگی میں نے اُدھر دیکھا تو اُس طرف والے لڑکے نے مجھے اشارہ سے جھکنے کے لئے کہا میں جب جھکا تو اُس لڑکے نے آہستہ سے مجھ سے پوچھا چچا! یہ تو بتاؤ وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم ﷺ کو دکھ دیا کرتا تھا آج میں اُس سے اُس کی شرارتوں کا بدلہ لوں گا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ ابھی میں اُس کی بات کا جواب دینے نہ پایا تھا کہ مجھے دوسری طرف سے کہنی لگی اور اُس طرف کے لڑکے نے بھی اشارہ سے کہا کہ جھک کر میری بات سنو۔جب میں جھکا تو اُس نے بھی مجھ سے وہی سوال کیا جو پہلے لڑکے نے کیا تھا کہ چا! وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم ﷺ کو دکھ دیا کرتا تھا میرا جی چاہتا ہے کہ آج اُس سے بدلہ لوں گا۔میں اُن کی اِس جرات پر سخت حیران ہوا کیونکہ میرے دل میں یہ خیال بھی نہ آ سکتا تھا کہ یہ کم سن اور نا تجربہ کارلڑ کے دشمن کے سب سے بڑے جرنیل پر حملہ کرنے کا ارادہ کر سکتے ہیں۔میں نے اُن دونوں کو اشارہ سے بتایا کہ وہ جو فولادی خود کے اندر چھپا ہوا ہے اور اُس کے آس پاس دو پہرہ دار کھڑے ہیں وہ ابو جہل ہے۔عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ابھی میری انگلی