انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 582

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۸۲ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔۔نیت دیتے تھے اُس وقت کے ستائے ہوئے ، دُکھائے ہوئے اور تنگ آئے ہوئے مسلمان اگر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں تو کیا ان کا یہ مطالبہ نا جائز ہے؟ کیا یہ ایک روشن حقیقت نہیں کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا رہا جو نہایت نا واجب نہایت ناروا اور نہایت نا منصفانہ تھا۔حال کا ایک واقعہ ہے ہمارا ایک احمدی دوست فوج میں ملازم ہے باوجود یکہ اس کے خلاف ایک بھی ریمارک نہ تھا اور دوسری طرف ایک سکھ کے خلاف چار ریمارکس تھے۔اس سکھ کو او پر کر دیا گیا اور احمدی کو گرا دیا گیا۔جب وہ احمدی انگریز کمانڈ و کے پاس پہنچا اور اپنا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا واقعی آپ کے ساتھ ظلم ہوا تم درخواست لکھ کر میرے پاس لاؤ لیکن جب وہ احمدی درخواست لے کر انگریز آفیسر کے پاس پہنچا تو اُس نے درخواست اپنے پاس رکھ لی اور اسے اوپر نہ بھجوایا۔کئی دن کے بعد جب دفتر سے پتہ لیا گیا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ درخواست کو او پر بھجوایا نہیں گیا تو دفتر والوں نے بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ شملہ سے آڈر آ گیا ہے کہ کوئی اپیل اس حکم کے خلاف او پر نہ بھجوائی جائے۔جس قوم کے ساتھ اتنا لمبا عرصہ یہ انصاف برتا گیا ہو کیا وہ اس امر کا مطالبہ نہ کرے گی کہ اسے الگ حکومت دے دی جائے ؟ ان حالات کے پیش نظر ان کا حق ہے کہ وہ یہ مطالبہ کریں اور ہر دیانتدار کا فرض ہے کہ خواہ اس میں اس کا نقصان ہو مسلمانوں کے اس مطالبہ کی تائید کرے۔پس ایک نقطہ نگاہ تو یہ ہے جس سے ہم اس اخبار کے متعلقہ مضمون پر غور کر سکتے ہیں دوسرا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ بے شک ہمیں مسلمانوں کی طرف سے بھی بعض اوقات تکالیف پہنچ جاتی ہیں اور ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ شاید وہ ہمیں پھانسی پر چڑھا دیں گے لیکن میں ہندوؤں سے یہ پوچھتا ہوں کہ تم لوگوں نے ہمیں کب سکھ دیا تھا ؟ تم لوگوں نے ہمیں کب آرام پہنچایا تھا اور تم لوگوں نے کب ہمارے ساتھ ہمدردی کی تھی؟ کیا بہار میں بے گناہ احمدی مارے گئے یا نہیں؟ کیا ان کی جائداد میں تم لوگوں نے تباہ کیں یا نہیں؟ کیا ان کو بیجا دُکھ پہنچایا یا نہیں ؟ کیا گڑھ مکتیسر میں شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور کا لڑکا تمہارے مظالم کا شکار ہوا یا نہیں؟ حالانکہ وہ ہیلتھ آفیسر تھا اور وہ تمہارے میلے میں اس لئے گیا تھا کہ اگر کوئی تم میں سے بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کرے، اگر تم میں سے کسی کو زخم لگ جائے تو اس پر مرہم پٹی کرے اور اگر تم میں سے کوئی بخار سے مر رہا