انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 581

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۸۱ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔ پر گیا اور کہا کانگرس اور مسلم لیگ کے درمیان صلح نہایت ضروری ہے لیکن انہوں نے بھی صرف یہ کہہ دیا کہ یہ ٹھیک تو ہے ، ہاں آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر اب کیا ہو سکتا ہے کیا بن سکتا ہے ۔ اسی طرح میں نے تمام لیڈروں سے ملاقاتیں کر کے سارا زور لگایا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہو جائے مگر افسوس کہ کسی نے میری بات نہ سنی اور صرف اس لئے نہ سنی کہ میں پانچ لاکھ کا لیڈر تھا اور وہ کروڑوں کے لیڈر تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ملک کے اندر جگہ جگہ فسادات ہو رہے ہیں اور قتل وغارت کا بازار گرم ہے ۔ اگر یہ لوگ اُس وقت میری بات کو مان جاتے اور صلح صفائی کی کوشش کرتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا مگر میری بات کو نہ مانا گیا اور صلح سے پہلو تہی اختیار کی۔ اس کے تھوڑے عرصہ بعد بہار اور گڑھ مکتیسر کا کا واقعہ ہوا اور اب پنجاب میں ہو رہا ہے اگر اب بھی ان لوگوں کی ذہنتیں نہ بدلیں تو یہ فسادات اور بھی بڑھ جائیں گے اور ایسی صورت اختیار کر لیں گے کہ باوجود ہزار کوششوں کے بھی نہ رک سکیں گے ۔ اس وقت ضرورت صرف ذہنیتیں تبدیل کرنے کی ہے اگر آج بھی ہند واقرار کر لیں کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی آؤ مسلما نو ہم سے زیادہ سے زیادہ حقوق لے لو تو آج ہی صلح ہو سکتی اور یہ تمام جھگڑے رفع دفع ہو سکتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ بغض پر بغض ، بغض پر بغض کی بنیادیں رکھتے چلے جاتے ہیں اور انجام سے بالکل غافل بیٹھے ہیں ۔ اگر وہ صلح کرنا چاہیں اگر وہ پنپنا چاہیں اور اگر وہ گلے ملنا چاہیں تو یہ سب کچھ آج ہی ہو سکتا ہے مگر اس کا اور صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے ذہنیتوں میں تبدیلی ۔ کا صرف پس آج یہ سوال نہیں رہا کہ ہمارے ساتھ پاکستان بن جانے کی صورت میں کیا ہوگا ؟ سوال تو یہ ہے کہ اتنے لمبے تجربہ کے بعد جبکہ ہند و حاکم تھے گو ہند و خود تو حاکم نہ تھے بلکہ انگریز حاکم تھے لیکن ہندو حکومت پر چھائے ہوئے تھے جب ہندو ایک ہندو کو اس لئے ملازمت دے دیتے تھے کہ وہ ہندو ہے، جب ہندو اس لئے ایک ہندو کو ٹھیکہ دے دیتے تھے کہ وہ ہندو ہے اور جب وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندوؤں کو صرف اس لئے قابل اور اہل قرار دیتے تھے کہ وہ ہندو ہیں اور جب ہندو انگریز کی نہیں بلکہ اپنی حکومت سمجھتے ہوئے ہندوؤں سے امتیازی سلوک کرتے تھے اور جب وہ نوکری میں ہندو کو ایک مسلمان پر صرف یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ ہندو ہے