انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 566

انوارالعلوم جلد ۱۸ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو میرے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف دوزخ اور میں جب بھی کوئی ارادہ کرتا ہوں تو چونکہ میں جنت اور دوزح دونوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے میرا ارادہ ہمیشہ نیکی کی طرف جاتا ہے اور آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے سامنے سے تمام حجاب اٹھ گئے ہیں اور میں وراء الوراء دنیا کا مشاہدہ کر رہا ہوں لیکن جب میں آپ کی مجلس سے واپس جاتا ہوں تو یہ حالت نہیں رہتی نہ مجھے جنت نظر آتی ہے اور نہ دوزح اس لئے يَا رَسُولَ الله! میں اپنے آپ کو منافق سمجھتا ہوں۔آپ نے فرمایا یہ تو منافقت کی علامت نہیں اگر تم پر ہر وقت یہی حالت طاری رہے تو تم مر جاؤ لے پس اللہ تعالیٰ نے انسانی قلب کو اس طرح بنایا ہے کہ اس پر مختلف دور آتے رہتے ہیں کبھی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے متعلق غور کر رہا ہوتا ہے اور الحمد للہ کہتا ہے تو اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ تمام تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اُس کے سوا اور کسی کی پرستش یا کسی سے مدد مانگنا درست نہیں ہے۔پھر جب وہ رب العلمین کہتا ہے تو اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے تمام جہانوں کا پالنے والا صرف خدا ہی ہے جب وہ الرّحمنِ الرَّحِيمِ کہتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بن مانگے دینے والا اور سچی محنتوں کو ضائع کرنے والا نہیں ، جب وہ ملك يوم الدين کہتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ اعمال کی جزاء وسزا کے لئے اُسی کے دربار میں حاضر ہونا ہے، جب وہ اِيّاكَ نَعْبُدُ پر پہنچتا ہے تو اس کے تمام خیالات میں نیکی کی رو پھیل جاتی ہے اور وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ اے خدا! ہم صرف اور صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور جب وہ واياك نستعین پر غور کرتا ہے تو کہہ اُٹھتا ہے کہ اے ہمارے ربّ! بیشک ہم نَسْتَعِينُ ج تیری عبادت کرتے ہیں مگر اس کے لئے ہم تیری ہی مدد اور اعانت کے محتاج ہیں۔اسی طرح جب وہ ولا الضارین تک پہنچتا ہے تو وہ نیکی کے تمام مراحل طے کر چکا ہوتا ہے اور نیکی کے جذبات اس پر پوری طرح جاوی ہو جاتے ہیں لیکن وہی شخص جب بازار میں جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کسی جگہ آلو فروخت ہو رہے ہیں ، کسی جگہ دوسری اجناس فروخت ہو رہی ہیں تو اُس کے دماغ سے الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وغیرہ کے نقوش ہٹ جاتے ہیں اور وہ سوچتا ہے کہ اگر میں اتنے سیر آلوخرید لوں تو مجھے اس بھاؤ بیچنے میں اتنا نفع ہوگا یا میں اتنے