انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 565

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۶۵ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو فرموده ۷ رمئی ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان ) انسانی قلب کی حالت اور انسانی مقدر تیں ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں۔ایک وقت انسان پر ایسا آتا ہے کہ اس کے اندر قبض کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور ایک وقت اُس پر ایسا آتا ہے کہ اس پر بسط کی حالت ہوتی ہے اور یہ قبض اور بسط کی حالتوں کے دور بدلتے رہتے ہیں۔بعض اوقات یہ حالتیں الہی حکمت اور تدبیر کے ماتحت آتی ہیں اور بعض اوقات انسان ان حالتوں کو خود اپنے او پر وارد کر لیتا ہے اور یہ اس کے اپنے پیدا کئے ہوئے ماحول کے مطابق ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کے دماغ کو حساس بنایا ہے اور وہ خوف اور محبت کے جذبات کو اپنے اوپر اس طرح طاری کر لیتا ہے کہ اس کے ذرہ ذرہ میں بجلی کی سی لہر دوڑ جاتی ہے اور یہ دونوں جذبات اُس کے اندر ایسے مدغم ہو جاتے ہیں اور ان جذبات کی اتنی شدت ہوتی ہے کہ بعض اوقات تو وہ غم کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اور بعض اوقات شادی مرگ ہونے کی وجہ سے مرجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس پر کوئی حالت بھی دائمی نہیں رہ سکتی کبھی وہ غم کے دور میں سے گزر رہا ہوتا ہے اور کبھی خوشی اور محبت کے دور میں سے۔اگر انسان کی ان حالتوں میں تغیراورا نقلاب نہ ہوتا رہے تو وہ ان دونوں قسم کے جذبات میں سے کسی ایک شدت کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔شدت غم بھی ہلاکت کا موجب ہوتی ہے اور شدت خوشی بھی موت کا موجب۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے اور انہوں نے بے اختیار روکر عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! میں تو منافق ہوں آپ نے فرمایا کس طرح ؟ تم تو مؤمن ہو۔صحابی نے عرض کیا یا رَسُولَ الله! جب میں آپ کی مجلس میں ہوتا ہوں تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ