انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 558

۵۵۸ ہندوستانی اُلجھنوں کا آسان ترین حل انوارالعلوم جلد ۱۸ کہ تم اس طرح کے سودے کرتے پھرو اور لال بجھکڑ کی طرح اپنی کا ریگری دکھاتے پھرو۔آجکل سرحد کے مسئلہ پر گرم گرم بحثیں ہو رہی ہیں ایک فریق کہتا ہے ہم مسلم لیگ کی فوقیت چاہتے ہیں، دوسرا فریق کہتا ہے ہم کانگرس کی فوقیت کے خواہاں ہیں ، پچھلے دنوں سرحد میں جتنے الیکشن ہوئے ہیں ان میں اصول کا سوال نہ تھا بلکہ پس پردہ شخصیتوں کا سوال تھا یعنی گو ظاہر میں کچھ بھی تھا اصل میں لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ تم خان عبدالغفار خان کو ووٹ دو گے یا خان عبد القیوم خاں کو مگر سرحد کے معاملہ کی نوعیت بالکل بدل چکی ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ سرحد ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہنا چاہتا ہے یا مسلمانوں کے ساتھ مل کر۔اب اس بات کا علم ریفرنڈم کے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے اگر ایسا ہوتو سرحد کی اکثریت یہی کہے گی کہ ہم مسلمان علاقوں سے مل کر رہنا چاہتے ہیں لیکن مسلم لیگ اور خدائی خدمت گار کے پلیٹ فارم پر الیکشن لڑا جائے تو شاید اب بھی پٹھان اپنے عندیہ کو صحیح طور پر بیان نہ کر سکے گا کیونکہ ایک جزوی اور غیر اہم سوال سمجھ کر وہ اپنے سابق لیڈروں یعنی خان برادران کو چھوڑنے کو تیار نہ ہو۔درحقیقت جب تک کہ سوال اسلامی علاقوں سے ملاپ یا ہندو علاقوں سے ملاپ کا نہ ہو ووٹ آدمیوں کے حق میں ہوں گے نہ کہ حکومت کے حق میں اور جب کبھی احسان کا معاملہ ہو گا ووٹ محسن کے حق میں دیا جائے گا لیکن جب سوال اصول کا ہوگا تو ووٹ کا رنگ اور ہوگا۔حضرت سید عبد القادر جیلائی خود حنبلی تھے مگر حنفی ان کے اتنے معتقد ہیں کہ ان کو خدا کا درجہ دیتے ہیں اور ان کے نام کی نیازیں دیتے ہیں۔ہمارے نانا جان مرحوم کا واقعہ ہے اُنہوں نے کسی حنفی سے جو بڑے اہتمام اور التزام کے ساتھ گیارھویں کی نیاز دیا کرتا تھا پوچھا تم سید عبدالقادر جیلانی کے اتنے عاشق بنتے ہو اور اُن کے نام کی گیارھویں دیتے ہو مگر ان کا مذہب تو حنبلی تھا اور تمہارا مذہب حنفی؟ کہنے لگا ان کا مذہب اپنا اور میرا مذ ہب اپنا۔اسی طرح کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ سید عبد القادر جیلانی کے پاس اُن کا کوئی مرید آیا اور کہا میرا بیٹا سخت بیمار ہے آپ اس کی صحت کے لئے دعا کریں لیکن آخر اس کا بیٹا مر گیا تو وہ شکایت لے کر آپ کے پاس آیا اور کہا حضور اتنے دن آپ سے دعائیں کرائیں اور میرا بیٹا پھر بھی نہ بچ سکا۔سید صاحب کو غصہ آیا اور کہا اچھا یہ بات ہے لاؤ میرا سوٹا۔سوٹا لیا اور آسمان کی