انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 553

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۵۳ ہندوستانی اُلجھنوں کا آسان ترین حل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہندوستانی اُلجھنوں کا آسان ترین حل فرموده یکم مئی ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب ) کل صبح کی نماز کے وقت جب میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر یہ عربی کا مصرع جاری ہوا فَإِنْ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ حَقٌّ فَأَظْهِرٍ فَاظْهِر اصل میں فاظهِرُ ہے جو بوجہ الف کے متحرک کیا گیا ہے اور فَاظْهِرُ کے معنی ہیں غالب کر کیونکہ اظهَرَ عَلى عَدُوّہ کے معنی دشمن پر غالب کرنے کے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فَانُ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ حق کونکرہ بیان فرمایا۔تنوین کے کئی معنی ہوتے ہیں ، تنوین تعظیم کے لئے بھی آتی ہے اور تحقیر کے لئے بھی۔پس حق کے معنی کچھ حق بھی ہو سکتے ہیں اور بہت بڑے حق کے بھی۔اگر حق کے معنی تحقیر کے لئے جائیں تو اسلام سے اشارہ اس وقت کے مسلمانوں کے اسلام کی طرف ہوگا اور مراد یہ ہوگی کہ مسلمان خواہ اسلام سے کتنے دور جا پڑے ہیں مگر دعوای اسلام میں ذرا بھی صداقت ہو تو اس کی صداقت کی خاطر ان کو غلبہ دے اور ان کے مغلوب ہونے سے اسلام کو مغلوب ہونے کا جو خطرہ ہے اُس سے اِسے محفوظ رکھ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خود اس دعا کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اے خدا! اسلام کو لوگوں نے خواہ کتنا ہی بگاڑ دیا ہے اور اسلام کے مسائل کو کتنا ہی توڑ مروڑ دیا ہے اور اسلام کے اندر کتنے ہی رخنے واقع ہو چکے ہیں پھر بھی اے خدا! اگر اسلام کے اندر کچھ بھی سچائی موجود ہے تو یہ مستحق ہے اس بات کا کہ اس کو دوسرے تمام ادیان پر غلبہ عطا فرمایا جائے اور اسلام کے خلاف دوسرے ادیان باطلہ کی جو جد و جہد شروع ہے اس کو نا کام فرمایا جائے اور اسلام کی فوقیت کو ظاہر فرمایا جائے۔خدا تعالیٰ