انوارالعلوم (جلد 18) — Page 541
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۴۱ وحشی اور غیر متمدن اقوام میں بیداری کی ایک زبر دست اہر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وحشی اور غیر متمدن اقوام میں بیداری کی ایک زبر دست اہر فرموده ۱۳ جنوری ۱۹۴۷ء بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرآن کریم میں مسیح موعود کی بعثت کی خبر دیتے ہوئے جو علامات اس زمانہ کی بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک اہم علامت قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ! اُس وقت وحشی قومیں، غیر تعلیم یافتہ اور غیر مہذب قو میں وہ قو میں جن کا متمدن دنیا کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں تھا ان میں بھی خدا تعالی بیداری کے سامان پیدا کر دے گا۔دنیا میں ہمیشہ ہی ایسے زمانے چلے آئے جبکہ مختلف وحشی اقوام میں بیداری پیدا ہوئی۔مثلاً وہ قوم جس میں خود میرا تعلق ہے اس کے افراد بھی ایک زمانہ میں بالکل وحشی اور بربریت کی زندگی بسر کرتے تھے مگر پھر ایک دور اُن پر ایسا آیا جب اُن میں بیداری پیدا ہوئی اور وہ ایک طرف جاپان کی حدوں تک اور دوسری طرف آسٹریا کی حدوں تک ملکوں کو فتح کرتے ہوئے چلے گئے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عربوں میں بھی جو ایک وحشی قوم تھی بیداری پیدا ہوئی اور عرب ساری دنیا میں پھیل گئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب بھی وحشی کہلاتے تھے۔وحشی کے معنی ہیں وہ لوگ جو شہروں میں نہیں رہتے۔عرب اقوام بھی اس لئے وحشی کہلاتی تھیں کہ تمدن کی زندگی کے سامانوں سے وہ دور بھاگتی تھیں۔چنانچہ بائبل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو پیشگوئی آتی ہے اس میں آپ کا اور آپ کی قوم کا نام وحشی ہی رکھا گیا ہے۔غرض ایسے حالات تو ہمیشہ پیدا ہوتے رہے ہیں کہ کوئی ادنیٰ قوم بیدار ہوگئی مگر قرآن کریم کہتا ہے۔وَاِذَا الوُحُوشُ حُشِرَتْ ایک زمانہ میں تمام غیر متمدن اقوام