انوارالعلوم (جلد 18) — Page 511
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۱۱ خدا تعالیٰ دنیا کی ہدایت کیلئے ہمیشہ نبی مبعوث فرماتا ہے باپ زندہ ہو کر آج دنیا میں آجائیں اور دیکھیں کہ وہی بچہ جسے ہم حقیر سمجھتے تھے اب لاکھوں آدمی اس پر فدا ہیں اور اُس کے نام پر جان دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں اور ان میں کئی کروڑ پتی موجود ہیں تو وہ حیران رہ جائیں مگر لوگ بے وقوفی سے سمجھ لیا کرتے ہیں کہ یہ چھوٹا آدمی ہے اسے ہم نے مان کر کیا کرنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ایسے ہی آدمیوں کو بھیجتا ہے جو بظاہر چھوٹے معلوم ہوتے ہیں اور ایک زمانہ آتا ہے کہ اس کے نام پر مر مٹنے والے لاکھوں لوگ پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا قادیان میں نہ تو پہلے ریل تھی نہ ڈاکخانہ تھا، نہ کوئی دینی یا دنیوی علوم کا مدرسہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کوئی دینوی وجاہت نہ رکھتے تھے اور بظاہر آپ نے جو تعلیم حاصل کی تھی وہ بھی معمولی تھی اس لئے جب آپ نے مسیحیت اور مہدویت کا دعوی کیا تو لوگوں نے شور مچا دیا کہ نَعُوذُ بِاللهِ شخص جاہل ہے یہ شخص کیسے مہدی ہو سکتا ہے۔پھر لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں کیسے مامور آ سکتا ہے اگر ما مور آنا ہی تھا تو لاہور، امرتسر یا اسی طرح کے کسی بڑے شہر میں آنا چاہئے تھا۔غرض لوگوں نے زبردست مخالفت شروع کی اور جو لوگ آپ کے دعوی کو سن کر آپ کی زیارت کے لئے قادیان آنے کا ارادہ کرتے تھے اُن کو بھی روکا جاتا تھا اور اگر وہ نہ رکھتے تھے تو انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جاتی تھیں، ان کو قسم قسم کی مصیبتوں اور دکھوں میں مبتلا کر دیا جاتا تھا مگر ان تمام حالات کی موجودگی میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا “ سے یہ الہام آپ کو اس وقت ہوا جب آپ کو ایک آدمی بھی نہ مانتا تھا پھر یہ الہام ہوا کہ ”میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ سے اس زمانہ میں مخالفت کا یہ حال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک نوکر پیرا نامی جواتنا بے وقوف تھا کہ وہ سالن میں مٹی کا تیل ملا کر پی جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو کبھی کبھی کسی کام کے لئے بٹالہ بھیج دیا کرتے تھے ایک دفعہ اس کو بٹالہ بھیجا گیا تو وہاں اس کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ملے جو حدیث کے لیڈر مانے جاتے تھے اور بڑے بھاری مولوی سمجھے جاتے تھے۔ان کا کام ہی